چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 283

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۳ چشمه معرفت ذریعہ سے خدا کی قدرتوں کے دریافت کرنے کے لئے جان توڑ کوششیں کر رہا ہے مگر ابھی تک اس قدر اُس کے معلومات میں کمی ہے کہ اس کو نامراد اور نا کام ہی کہنا چاہیے۔ صدہا اسرار غیبیہ اہل کشف اور اہل مکالمہ الہیہ پر کھلتے ہیں اور ہزار ہاراستباز اُن کے گواہ ہیں مگر فلسفی لوگ اب تک اُن کے منکر ہیں جیسا کہ فلسفی لوگ تمام مدار ادراک معقولات اور تد بر اور تفکر کا دماغ پر رکھتے ہیں مگر اہل کشف نے اپنی صحیح رؤیت اور روحانی تجارب کے ساتھ معلوم کیا ہے کہ انسانی عقل اور معرفت کا سرچشمہ دل ہے جیسا کہ میں پینتیس برس سے اس بات کا مشاہدہ کر رہا ہوں کہ خدا کا الہام جو معارف روحانیہ اور علوم غیبیہ کا ذخیرہ ہے دل پر ہی نازل ہوتا ہے بسا اوقات ایک ایسی آواز سے دل کا سر چشمہ علوم ہونا کھل جاتا ہے کہ وہ آواز دل پر اس طور سے بشدت پڑتی ہے کہ جیسے ایک ڈول زور کے ساتھ ایک ایسے کنوئیں میں پھینکا جاتا ہے جو پانی سے بھرا ہوا ہے تب وہ دل کا پانی جوش مار کر ایک غنچہ کی شکل میں سربستہ اوپر کو آتا ہے اور دماغ کے قریب ہو کر پھول کی طرح کھل جاتا ہے اور اس میں سے ایک کلام پیدا ہوتا ہے وہی خدا کا کلام ہے۔ پس ان تجارب صحیحہ روحانیہ سے ثابت ہے کہ دماغ کو علوم اور معارف سے کچھ تعلق نہیں ہاں اگر دماغ صحیح واقعہ ہو اور اس میں کوئی آفت نہ ہو تو وہ دل ۲۷۱ کے علوم مخفیہ سے مستفیض ہوتا ہے اور دماغ چونکہ منبت اعصاب ہے اس لئے وہ ایسی گل کی طرح ہے جو پانی کو کنوئیں سے بھینچ سکتی ہے اور دل وہ کنواں ہے جو علوم مخفیہ کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ راز ہے جو اہل حق نے مکاشفات صحیحہ کے ذریعہ سے معلوم کیا ہے جس میں میں خود صاحب تجربہ ہوں ۔ ایسا ہی جدید سائنس یعنی طبعی کی تحقیقات میں یہ ایک غلطی ہے کہ قطعی طور پر یہ خیال کیا گیا ہے جو ہر ایک مادی چیزوں میں جو کیڑے پڑ جاتے ہیں وہ ہوا سے آتے ہیں یعنی ہوا کے کیڑے اس چیز میں داخل ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ قاعدہ کئی جگہ ٹوٹ جاتا ہے مثلاً جو نطفہ سے جلا حاشیہ: چونکہ دماغ منبت اعصاب ہے اس لئے علوم قلبیہ کا محسوس کرنا اس کا کام ہے اور اگر دماغ میں کوئی آفت پیدا ہو تو وہ علوم پر دہ میں آجاتے ہیں جیسا کہ اگر ڈول یا اس کی رسی نا تمام ہو تو پانی کنوئیں میں سے نہیں آ سکتا ۔ منہ