چشمہٴ معرفت — Page 284
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۸۴ چشمه معرفت مثانہ کے اندر کیڑا بنتا ہے وہ سائنس والوں کے اقرار کی رو سے ہوا سے نہیں بنتا اور ہوا کو اس میں کوئی دخل نہیں ایسا ہی جو گولر کے پھل میں چھوٹے چھوٹے کیڑے پر دار بن جاتے ہیں جن سے گولر کا پھل بگڑتا نہیں بلکہ شیریں اور کھانے کے لائق ہو جاتا ہے اُن کو بھی ہوا سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے گولر کا کچا پھل اُن کے لئے بطور نطفہ کے ہوتا ہے اور جب تک وہ کچا ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا دکھائی نہیں دیتا اور لوگ پکا پکا کر اس کو کھاتے ہیں اور پھر جیسے جیسے آہستہ آہستہ وہ پکتا جاتا ہے تو اُسی کے مغز میں سے چھوٹے چھوٹے جانور پر دار کسی قدر سبز چمکدار بنتے جاتے ہیں اور لوگ مع کیڑوں کے اُس پھل کو کھا جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ ان جانداروں کا محض ایک پھل میں سے بن جانا ایک نرالا قانونِ قدرت ہے جس کو نیستی سے ہستی کہنا چاہیے کیونکہ یہ اُن کیٹروں کی طرح نہیں ہوتے جو ایک متعفن چیز میں پائے جاتے ہیں جو ایک قسم کے زہریلے کیڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب دال یا دودھ یا گوشت وغیرہ میں اُس قسم کے کیڑے پڑتے ہیں تو وہ چیز سخت متعفن ہو جاتی ہے اور اُس میں سے نہایت گندی بد بو آتی ہے اور اس میں ایک قسم کی زہر پڑ جاتی ہے اسی وجہ سے اس کا کھانا مصضر صحت ہوتا ہے لیکن یہ کپڑے گولر کے پھل کو مضر صحت نہیں کرتے بلکہ وہ پھل تبھی کھانے کے لائق ہوتا ہے جب وہ ۲۷۲ کیڑے اس میں پیدا ہو جاتے ہیں ایسا ہی ہم اس جگہ بہت سی ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے کیڑے ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ ہوا کا اُن میں کچھ بھی تعلق نہیں یہ بات تو ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ گندی ہوا سے گندی چیزیں ہی پیدا ہوتی ہیں نہ ایسی پاک اور مفید صحت چیزیں جو کھانے کے لائق ہوں۔ پس یہ عقیدہ کہ تمام کیڑے جو پیدا ہوتے ہیں وہ در اصل ہوا کے کیڑے ہیں یہ صیح نہیں ہے بلکہ اس جگہ یہ سوال بھی پیش ہوسکتا ہے کہ دراصل ہوا کیڑوں سے پاک ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جیسے کسی اونچے پہاڑ کی بلندی پر چڑھیں جس کی سطح کھلی اور ہر ایک روک سے محفوظ ہو وہ ہوا کیٹروں سے خالی ہوتی ہے یا یوں کہو کہ بہت ہی کم