چشمہٴ معرفت — Page 268
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۸ چشمه معرفت ایسا ہی تو ریت تو حید کے بیان کرنے میں ناقص تھی اور انجیل بھی ناقص تھی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ عیسائیوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا لیا اگر توریت اور انجیل میں وہ تعلیم موجود ہوتی جو قرآن شریف میں موجود ہے تو ہر گز ممکن نہ تھا کہ اس طرح پر عیسائی گمراہ ہو جاتے ۔ مجھے تعجب ہے کہ وہ کامل اور پاک کتاب جس نے توریت اور انجیل کا ناقص ہونا بکمال صفائی ثابت کر دیا اور اُن کے محرف اور مبدل ہونے پر مطلع کیا اور بد چلنی اور شرک کو اس ملک سے اٹھا دیا اور ایک تازہ نور سے دنیا کو منور کیا اُسی کتاب کو یہ لوگ انجیل توریت کی نقل سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا نام ہم کیا رکھیں ؟ جمد حاشیہ: قرآن شریف کی اعجازی خوبیوں میں سے ایک بلاغت فصاحت بھی ہے جو انسانی بلاغت فصاحت سے بالکل ممتاز اور الگ ہے کیونکہ انسانی بلاغت فصاحت کا میدان نہایت تنگ ہے ۔ اور جب تک کسی کلام میں مبالغہ یا جھوٹ یا غیر ضروری باتیں نہ ملائی جائیں تب تک کوئی انسان بلاغت فصاحت کے اعلیٰ درجہ پر قادر نہیں ہوسکتا (۲) دوسرے قرآن شریف کی ایک معجزانہ خوبی یہ ہے کہ جس قدر اس نے قصے بیان کئے ہیں در حقیقت وہ تمام پیشگوئیاں ہیں جن کی طرف جابجا اشارہ بھی کیا ہے۔ (۳) تیسرے قرآن شریف میں یہ معجزانہ خوبی ہے کہ اس کی تعلیم انسانی فطرت کو اس کے کمال تک پہنچانے کے لئے پورا پورا سامان اپنے اندر رکھتی ہے اور مرتبہ یقین حاصل کرنے کے لئے جن دلائل اور نشانوں کی انسان کو ضرورت ہے سب اس میں موجود ہیں (۴) چوتھے ایک بڑی خوبی اس میں یہ ہے کہ وہ کامل پیروی کرنے والے کو خدا سے ایسا نز دیک کر دیتا ہے کہ وہ مکالمہ الہیہ کا شرف پالیتا ہے اور کھلے کھلے نشان اس سے ظاہر ہوتے ہیں اور تزکیہ نفس اور ایمانی استقامت اس کو حاصل ہوتی ہے اور قرآن شریف کا یہ نکتہ نہایت ہی یادداشت کے لائق ہے کہ مومن کامل پر جو فیضان آسمانی نشانوں کا ہوتا ہے۔ وہ تو ایک خدا کا فعل ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی اپنی خوبی قرار نہیں دے سکتا۔ مومن کامل کی اپنی ذاتی خوبی تقوی طہارت اور قوت ایمان اور استقامت ہے مثلاً جیسے اگر کسی دیوار پر آفتاب کی روشنی پڑے تو وہ روشنی اس دیوار کی خوبیوں میں داخل نہیں کیونکہ وہ اس سے الگ بھی ہو سکتی ہے۔ بلکہ دیوار کی خوبی یہ ہے کہ اس کی بنیاد ایک مضبوط پتھر پر ہو اور ایسی پختہ اور ریختہ کی عمارت ہو کہ گو کیسے ہی سیلاب آویں اور شہید ہوا ئیں چلیں اور طوفان کی طرح مینہ برسیں اس دیوار میں جنبش نہ آوے۔ منہ