چشمہٴ معرفت — Page 269
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۶۹ چشمه معرفت توریت انجیل کو تو الگ رہنے دو۔ وید جس کی اشاعت کی نسبت کروڑوں برسوں کا دعویٰ کیا جاتا ہے اُس نے اتنی مدت میں کیا بنایا اور خواہ نخواہ اگنی ، وایو، پانی اور چاند سورج کی (۲۵۷) عظمتیں بیان کر کے آریہ ورت کے لوگوں کو عناصر پرست اور آفتاب پرست بنا دیا۔ بھلا کوئی بتلا وے کہ اگر آریہ ورت میں اس آتش پرستی اور آفتاب پرستی اور گنگا وغیرہ کی پوجا کی اصل جڑھ وید نہیں ہے تو پھر وہ کونسی کتاب ہے جس نے یہ گند آریہ ورت میں پھیلا دیا ؟ ہر ایک دانشمند رگوید کا پہلا صفحہ ہی دیکھ کر بلکہ پہلی سطر ہی دیکھ کر ضرور اس بات کا اقرار کرے گا کہ بلاشبہ یہ سب گند وید کے ذریعہ سے ہی پھیلا ہے وید نے ایک جگہ بھی یہ بیان نہیں کیا کہ ان چیزوں کی پرستش نہ کرو۔ اگر فرض کے طور پر یہ سب پر میشر کے نام تھے تو وید نے اس تصریح سے کیوں اپنا منہ پھیر رکھا؟ اور کیوں خواہ مخواہ لوگوں کو ہلاک کیا۔ آخر قرآن شریف ہی تھا جس نے وید کی تعلیم پر حملہ کر کے بلند آواز ے کہا لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ ترجمہ ۔ یعنی تم نہ سورج کی پوجا کرو اور نہ چاند کی پوجا کرو بلکہ اس ذات کی پوجا کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ۔ ایسا ہی دوسری طرف قرآن شریف نے بار بارعیسائیوں کو سمجھایا کہ مسیح ابن مریم صرف خدا کا رسول ہے تم خواہ نخواہ اُس کو خدا مت بناؤ ۔ پھر مجوسیوں کو اُن کے شرک اور آتش پرستی سے روکا اور سب کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور اپنا کام کر کے دکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک انتقال فرما نہ ہوئے جب تک ہر ایک قسم کے شرک اور بت پرستی سے عرب کے جزیرہ نما کو صاف نہ کر دیا اور باقی ماندہ ممالک کو اپنے خلفاء کے ذریعہ سے مخلوق پرستی سے نجات دی اور یہ کامیابی کسی کو حاصل نہیں ہوئی اور آریہ ورت پر بھی قرآن شریف کا ہی احسان ہے کہ یہ ملک جو مخلوق پرستی سے پُر ہو چکا تھا اور اُس کی حالت ایک متعفن مردار کی طرح ہوگئی تھی اُس نے اسی قوم میں سے کئی کروڑ موحد پیدا کر دیئے پھر بھی کفرانِ احسان کرتے ہیں یہ اُن کا خاصہ فطرت ہے۔ حم السجدة : ۳۸