چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 267

روحانی خزائن جلد ۲۳ چشمه معرفت دنیا کو نئے سرے زندہ کرے کیا آپ لوگوں میں سے کوئی شریف اور بھلا مانس اس دلیل پر غور نہیں کرتا کہ قرآن شریف تو خود فرماتا ہے کہ اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَالے یعنی اے انسانو ! تمہیں معلوم ہو کہ زمین مرچکی تھی اور خدا نئے سرے اب اُس کو زندہ کر رہا ہے۔ پس قرآن شریف کا یہی ایک نور تھا جس کے آنے سے پھر دنیا نے توحید کی طرف پلٹا کھایا اور تمام جزیرہ عرب توحید سے بھر گیا اور ممالک ایران کی آتش پرستی بھی دور ہو گئی پس اے عزیزو! کچھ تو خدا کا خوف کرو اور ایسے گنڈوں اور شہدوں کی طرح آفتاب پر مت تھو کو جن میں کوئی بھی شرم اور حیا کا مادہ نہیں رہتا۔ قرآن شریف نے تو تو ریت انجیل کی اصلاح کی اور ان دونوں کتابوں کے نقصان کو پورا کیا تو پھر وہ اُن کی نقل کیونکر ہو گیا ؟ ظاہر ہے کہ توریت کی تعلیم دی تھی کہ دانت کے بدلہ دانت اور آنکھ کے بدلہ آنکھ اور ناک کے بدلہ ناک اور انجیل کی (۲۵۶ یہ تعلیم تھی کہ شرکا ہرگز مقابلہ نہ کرو لیکن قرآن شریف نے ان دونوں تعلیموں کو ناقص ٹھہرایا اور فرمایا کہ جَزْؤُا سَيِّئَةِ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَ أَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ دراصل بدی کی جزا اُسی قدر بدی ہے لیکن اگر کوئی ایسے طور سے اپنے گنہگار کو معاف کرے کہ اس معافی سے اُس کی کچھ اصلاح ہو جائے یعنی وہ معافی اس کے لئے مفید پڑے تو وہ اپنا بدلہ پائے گا۔ ایسا ہی ان دونوں کتابوں کے پیروؤں میں شراب اور قمار بازی کی کوئی حد نہیں رہی تھی کیونکہ ان کتابوں میں یہ نقص تھا کہ ان خبیث چیزوں کو حرام نہیں ٹھیرایا اور عیاش لوگوں کو اُن کے استعمال سے منع نہیں کیا تھا اسی وجہ سے یہ دونوں قو میں اس قدر شراب پیتی تھیں کہ جیسے پانی اور قمار بازی بھی حد سے زیادہ ہو گئی تھی مگر قرآن شریف نے شراب کو جو ام الخبائث ہے قطعاً حرام کر دیا اور یہ فخر خاص قرآن شریف کو ہی حاصل ہے کہ ایسی خبیث چیز جس کی خباثت پر آج کل تمام یورپ کے لوگ فریاد کر اٹھے ہیں وہ قرآن شریف نے ہی قطعا حرام کر دی ایسا ہی قمار بازی کو قطعاً حرام کیا۔ الحديد ۱۸ الشورى : ام