چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 256

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۶ چشمه معرفت اور غارت میں درندوں سے بڑھ کر تھے اور عیاشی اور غفلت کا کوئی حساب نہ تھا اور ہر ایک حرام کو حلال سمجھ رکھا تھا ۔ غرض جس وقت عرب کی یہ حالت تھی جو او پر مذکور ہوئی جب حضرت ۲۳۶ محمد صاحب عرب کے ایک مشہور اور معروف قبیلہ قریش کی شاخ بنی ہاشم میں پیدا ہوئے اور چونکہ آپ کے والدین بچپن میں ہی فوت ہو چکے تھے اس لئے آپ کو اس قدر تعلیم پانے کا بھی موقع نہ ملا کہ وہ ماں باپ کے زیر سایہ اپنی مادری زبان کو سیکھ سکتے بلکہ پیدا ہوتے ہی دودھ پلانے کے لئے ایک دیہاتی اور گنوار دایہ کے سپرد کئے گئے اور دن رات ایک گنواری زبان سے اُن کو واسطہ پڑا شاید اس میں یہی حکمت خدا تھی کہ جو شخص جو ان ہوکر کلام کا معجزانہ نمونہ پیش کرنے والا تھا وہ بچپن میں یوں گنواروں اور چرواہوں میں پہلے تا خدا کی قدرت کا نمونہ ظاہر ہو۔ خدا نے جو اُن پر پیدا ہوتے ہی یہ مصیبتیں ڈالیں تو شاید اس میں یہ حکمت تھی کہ تا اُن کے مزاج میں اعلیٰ درجہ کا حلم اور صبر اور رحم پیدا ہو جائے اور تا وہ ہمدردی بُردباری اور غم خواری سے اپنے ہم وطنوں کو چاہ گمراہی سے باہر نکالیں۔ آپ نے پینتیس برس کی عمر میں ہمدردی نوع انسان کا یہ نمونہ دکھلایا کہ زید بن حارث کسی لڑائی میں پکڑا گیا تھا اور وہ غلام بنا کر خدیجہ کے بھتیجے کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا تھا اور خدیجہ کے بھتیجے نے اُس غلام کو اپنی پھوپھی کی نذر کیا تب آپ نے اُس غلام کو خدیجہ سے مانگ کر آزاد کر دیا اور آپ کا دل اپنے ملک کو تاریکی اور جہالت میں ڈوبا ہوا دیکھ کر بہت دردمند رہتا تھا اور عورتوں کے حال زار اور معصوم لڑکیوں کو زندہ درگور ہوتے ہی دیکھے کر جگر پاش پاش ہوتا تھا۔ فی الواقع آنحضرت کی ذات سے جو جو فیض دنیا کو پہنچے اُن کے لئے نہ صرف عرب بلکہ تمام دنیا کو اُن کا شکر گذار ہونا مناسب ہے۔ کون کونسی تکلیفیں ہیں جو اس بزرگ نے نسل انسان کے لئے اپنے اوپر برداشت نہیں کیں اور کیا کیا مصیبتیں ہیں جو اُن کو اس راہ میں اٹھانی نہیں پڑیں ۔ عرب جیسے ایک وحشی اور کندہ نا تراش ملک کو تو حید کی راہ دکھانا اور اُن بدیوں سے روکنا جو عادت میں داخل ہو گئی تھیں کچھ سہل کام نہ تھا تنگ دل اور متعصب لوگ ایسے بزرگ