چشمہٴ معرفت — Page 255
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۵۵ چشمه معرفت کافروں سے شروع ہوئی اور اسلام میں بطور سزا کے یہ حکم جاری ہوا اور اُس میں بھی آزاد کرنے کی (۲۴۵) ترغیب دی گئی۔ اب ہم اس جگہ مذکورہ بالا بیان کی شہادت کے لئے ایک برہمو صاحب کی کتاب سے ذیل میں چند عبارتیں اختصار کے ساتھ نقل کرتے ہیں ۔ برہمو صاحب کا نام پر کاش دیوجی ہے جو برامھ دھرم لاہور کے پرچارک ہیں اور کتاب کا نام سوانح عمری حضرت محمد صاحب ہے اور اس پر آشوب زمانہ میں کہ ہر ایک فرقہ خواہ آریہ ہیں خواہ پادری صاحبان دیدہ دانستہ کئی طور کے افترا کر کے ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین اور اسلام کی تحقیر کو بڑا ثواب کا کام سمجھ رہے ہیں ایسے وقت میں آریہ قوم میں سے ایسا منصف مزاج پیدا ہونا جو ہر ہمو مذہب رکھتے ہیں نہایت عجیب بات ہے مؤلف کتاب نے اپنی دیانت داری اور انصاف پسندی اور حق گوئی اور بے تعصبی کا عمدہ نمونہ دکھلایا ہے۔ میرے نزدیک مناسب ہے کہ ہماری جماعت کے لوگ ایک ایک نسخہ اس کتاب کا خرید لیں قیمت بھی بہت کم ہے اور وہ عبارتیں برہمو صاحب کی کتاب کی خلاصہ کے طور پر یہاں لکھی جاتی ہیں اور وہ یہ ہیں۔ اہل عرب آنحضرت کے ظہور کے وقت میں بہت ہی بد رسوم کے مروج تھے چنانچہ فسق و فجور رہزنی قزاقی وغیرہ اس درجہ تک اُن میں بڑھی ہوئی تھی کہ اُن کے حالات پڑھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ قیموں کا مال کھا لیتے اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرتے تھے ۔ شراب خوری کی یہ کثرت تھی کہ بچہ نے دودھ چھوڑا اور شراب چینی شروع کی۔ مرد جس قدر چاہتا تھا عور تیں کر لیتا تھا جب چاہتا تھا بلا عذر چھوڑ دیتا تھا۔ کینہ ، حسد، بغض بہت بڑھا ہوا تھا۔ بت پرستی سے کوئی گھر خالی نہ تھا اور مکہ گویا ایک بت پرستی کا تیرتھ بنا ہوا تھا اور جتنے اُن لوگوں کے چلن تھے سب وحشیانہ تھے اور لوٹ اور مار میں لگا نہ تھے قتل حاشیہ برہمو صاحب کی کتاب میں ایک دو جگہ خفیف غلطی پائی گئی ہے یہ بشریت ہے مگر یہ تو ممکن نہیں تھا۔ کہ ایک مسلمان کی طرح ان کی تقریر ہوتی۔ ایسی صورت میں شبہات پیدا ہوتے اور کچھ اثر نہ ہوتا۔ منہ