چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 257

۲۵۷ چشمه معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ کی نسبت کچھ ہی کہیں لیکن جو لوگ انصاف پسند اور کشادہ دل ہیں وہ کبھی محمد صاحب کی ان بے بہا خدمات کو جو وہ نسل انسان کے لئے بجالائے بھلا کر احسان فراموش نہیں ہو سکتے وہ اپنی فضیلت کا (۲۴۷) ایسا جھنڈا کھڑا کر گئے ہیں جس کے نیچے اب تیرہ چودہ کروڑ دنیا کے آدمی پناہ گزین ہیں اور اُن کے نام پر جان دینے کے لئے مستعد کھڑے ہیں۔ قریش نے ایک مرتبہ یہ سوچا کہ محمد صاحب کو کوئی زبردست دنیاوی لالچ دے کر اس کام سے باز رکھیں چنانچہ پہلے اُن کے وکیل نے آپ کے پاس آکر بہت سے مال اور دولت کے طمع دیئے مگر آپ نے کچھ توجہ نہ کی اور پھر یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو اپنا سردار اور پیشوا مقرر کر لیتے ہیں اور آخر کو جب یہ بھی نہ مانا گیا تو یہ کہا کہ ہم آپ کو اپنا بادشاہ قبول کرتے ہیں مگر آپ نے اس کے جواب میں قرآن شریف کی چند آیتیں سنائیں جو خدا کی توحید پر مشتمل تھیں ۔ آخر قریش کا قاصد نا کام واپس آیا۔ اور جب قریش اپنے اس حیلہ میں کامیاب نہ ہوئے تو انہوں نے مسلمانوں کو بے انتہا اذیتیں اور تکلیفیں پہنچانی شروع کیں۔ عزیزوں کا لہو سفید ہو گیا۔ سگا چاچا ابولہب دشمن جانی بن گیا۔ سنگی چچی کا یہ حال تھا کہ وہ بہت سے کانٹے ، گوکھرو سمیٹ لیتی اور جن جن راہوں سے آپ گزرتے وہاں وہ گو کھڑو اور کانٹے بکھیر دیتی اور آپ کے پاؤں زخمی ہو جاتے تب آپ بیٹھ جاتے اپنے پاؤں سے بھی کانٹے نکالتے اور راستہ میں سے بھی دور کرتے تا دوسرے چلنے والے بھی اُس اذیت سے بھیں ۔ آپ جب وعظ کہنے کے لئے کھڑے ہوتے اور قرآن مجید پڑھتے تو لوگ غل مچاتے تا کوئی شخص اُن کی بات کو نہ سن سکے ۔ آپ کو کہیں کھڑا نہ ہونے دیتے اور جب آپ تنگ آکر چلے جاتے تو اُن پر پتھر اور ڈھیلے پھینکے جاتے یہاں تک کہ آپ کے ٹخنے اور پنڈلیاں زخمی ہو جاتیں۔ ایک دفعہ چند دشمنوں نے آپ کو تنہا پا کر پکڑ لیا اور آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُسے مروڑ نا شروع کیا۔ قریب تھا کہ آپ کی جان نکل جائے کہ اتفاق سے ابوبکر آ نکلے اور انہوں نے