چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 248 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 248

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۸ چشمه معرفت یا یہ کہ وہ اس ذریعہ سے اپنی صالح اولاد چھوڑ جائیں گے تو اُن کا یہ فرض ہے کہ وہ ضرور اس با برکت کام سے حصہ لیں خدا کی جناب میں بدکاری اور بدنظری ایسے نا پاک گناہ ہیں جن سے ۲۳۹ نیکیاں باطل ہو جاتی ہیں اور آخر اسی دنیا میں جسمانی عذاب نازل ہو جاتے ہیں۔ پس اگر کوئی تقویٰ کے محکم قلعہ میں داخل ہونے کی نیت سے ایک سے زیادہ بیویاں کرتا ہے اس کے لئے صرف جائز ہی نہیں بلکہ یہ عمل اس کے لئے موجب ثواب ہے۔ جو شخص اپنے تئیں بدکاری سے روکنے کے لئے تعدد ازواج کا پابند ہوتا ہے وہ گویا اپنے تئیں فرشتوں کی طرح بنانا چاہتا ہے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ یہ اندھی دنیا صرف جھوٹی منطقوں اور جھوٹی شیخیوں میں گرفتار ہے وہ لوگ جو تقومی کی تلاش میں لگے نہیں رہتے کہ کیوں کر حاصل ہو اور تقویٰ کے حصول کے لئے کوئی تدبیر نہیں کرتے اور نہ دعا کرتے ہیں اُن کی حالتیں اُس پھوڑے کی مانند ہیں جو اوپر سے بہت چمکتا ہے مگر اُس کے اندر بجز پیپ کے اور کچھ نہیں ۔ اور خدا کی طرف جھکنے والے جو کسی علامت گر کی ملامت کی پروا نہیں کرتے وہ تقویٰ کی راہوں کو یوں ڈھونڈتے پھرتے ہیں جیسا کہ ایک گدا روٹی کو ۔ اور جولوگ خدا کی راہ میں مصیبتوں کی آگ میں پڑتے ہیں جن کا دل ہر وقت مغموم رہتا ہے اور خدا کی راہ میں بڑے مقاصد مگر دشوار گذار ان کی روح کو تحلیل کرتے اور کمر کو توڑتے رہتے ہیں اُن کے لئے خدا خود تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنے دن یا رات میں سے چند منٹ اپنی مانوس بیویوں کے ساتھ بسر کریں اور اس طرح پر اپنے کوفتہ اور شکستہ نفس کو آرام پہنچا دیں اور پھر سرگرمی سے اپنے دینی کام میں مشغول ہو جاویں ۔ ان باتوں کو کوئی نہیں سمجھتا مگر وہ جو اس راہ میں مذاق رکھتے ہیں۔ میں نے ہندوؤں کی ہی پتک میں یہ ایک حکایت پڑھی ہے کہ ایک شخص کسی بہت ضروری کام کے لئے کسی طرف جاتا تھا اور راہ میں اس کے ایک خونخوار دریا تھا اور کوئی کشتی نہیں تھی اور جانا ضروری تھا۔ جب وہ دریا کے کنارہ پر پہنچا تو ایک فقیر کو اُس نے دیکھا جس کی سوا بیوی تھی تب اُس نے اُس کی خدمت میں عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ میں کسی طرح اس دریا سے پار ہو جاؤں ۔اس فقیر نے کہا کہ تو دریا کے کنارہ