چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 247

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۷ چشمه معرفت ظلم ہے اور طریق اعتدال کے برخلاف ہے یہ اُن لوگوں کا کام ہے جن کی تعصب سے عقل ماری گئی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلہ حقوق عباد کے متعلق ہے اور جو شخص دو بیویاں کرتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کا حرج نہیں اگر حرج ہے تو اس بیوی کا جو پہلی بیوی ہے یا دوسری بیوی کا۔ پس اگر پہلی ۲۳۸ بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی بجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پاسکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ ضلع کراسکتی ہے اور اگر دوسری بیوی اپنا کچھ حرج سمجھتی ہے تو وہ اپنے نفع نقصان کو خود بجھتی ہے پس یہ اعتراض کرنا کہ اس طور سے اعتدال ہاتھ سے جاتا ہے خواہ نخواہ کا دخل ہے اور با ایں ہمہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو وصیت فرمائی ہے کہ اگر اُن کی چند بیویاں ہوں تو اُن میں اعتدال رکھیں ورنہ ایک ہی بیوی پر قناعت کریں۔ اور یہ کہنا کہ تعدد ازواج شہوت پرستی سے ہوتا ہے یہ بھی سراسر جاہلانہ اور متعصبانہ خیال ہے ہم نے تو اپنی آنکھوں کے تجربہ سے دیکھا ہے کہ جن لوگوں پر شہوت پرستی غالب ہے اگر وہ تعدد ازواج کی مبارک رسم کے پابند ہو جا ئیں تب تو وہ فسق و فجور اور زنا کاری اور بدکاری سے رک جاتے ہیں اور یہ طریق اُن کو متقی اور پر ہیز گار بنا دیتا ہے ور نہ نفسانی شہوات کا تند اور تیز سیلاب بازاری عورتوں کے دروازہ تک اُن کو پہنچا دیتا ہے آخر آتشک اور سوزاک خریدتے یا اور کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ کام فسق و فجور کے چھے چھے اور کھلے کھلے اُن سے صادر ہوتے ہیں جن کی نظیر اُن لوگوں میں ہرگز نہیں پائی جاتی جن کی دو دو تین تین دل پسند بیویاں ہوتی ہیں۔ یہ لوگ تھوڑی مدت تک تو اپنے تئیں روکتے ہیں آخر اس قدر یک دفعہ اُن کی ناجائز شہوات جوش میں آتی ہیں کہ جیسے ایک دریا کا بند ٹوٹ کر وہ دریا دن کو یا رات کو تمام اردگرد کے دیہات کو تباہ کر دیتا ہے بیچ تو یہ ہے کہ تمام کام نیت پر موقوف ہیں جو لوگ اپنے اندر یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوسری بیوی کرنے سے اُن کے تقویٰ کا سامان پورا ہو جائے گا اور وہ فسق و فجور سے بچ جائیں گے