چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 246

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۶ چشمه معرفت اس جگہ مخالفوں کی طرف سے یہ اعتراض ہوا کرتا ہے کہ تعدد ازواج میں یہ ظلم ہے کہ اعتدال نہیں رہتا ۔ اعتدال اسی میں ہے کہ ایک مرد کے لئے ایک ہی بیوی ہو مگر مجھے تعجب ہے کہ ۲۳۷ وہ دوسروں کے حالات میں کیوں خواہ نخواہ مداخلت کرتے ہیں جب کہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے مگر جبر کسی پر نہیں اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ اُن عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ اُن کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بیشک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا ۔ لیکن اگر کوئی عورت ایسی شرط نہ لکھا وے اور حکم شرع پر راضی ہو دے تو اس حالت میں دوسرے کا دخل دینا بیجا ہوگا اور اس جگہ یہ مثل صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تو تعد دازواج فرض واجب نہیں کیا ہے خدا کے حکم کی رو سے صرف جائز ہے پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ قانون کی رو سے ہے اور اُس کی پہلی بیوی اُس پر راضی نہ ہو تو اس بیوی کے لئے یہ راہ کشادہ ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو تو اُس کے لئے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دے دے۔ کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس نکاح پر راضی ہو جاویں تو اس صورت میں کسی آریہ کو خواہ نخواہ دخل دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے؟ کیا اُس مرد نے ان عورتوں سے نکاح کرنا ہے یا اس آریہ سے ۔ جس حالت میں خدا نے تعدد ازواج کو کسی موقعہ پر انسانی ضرورتوں میں جائز رکھا ہے اور ایک عورت اپنے خاوند کے دوسرے نکاح میں رضا مندی ظاہر کرتی ہے اور دوسری عورت بھی اس نکاح پر خوش ہے تو کسی کا حق نہیں ہے کہ اُن کے اس باہمی فیصلہ کو منسوخ کر دے اور اس جگہ یہ بحث پیش کرنا کہ ایک سے زیادہ بیوی کرنا پہلی بیوی کے حق میں