چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 245

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۵ چشمه معرفت (۱) ایک یہ کہ اُس کی اپنی بیوی کسی دوسرے مرد سے منہ کالا کراوے نہ ایک دن نہ دو دن بلکہ قریباً چودہ سال تک کسی دوسرے مرد سے ناجائز تعلق رکھے یا کم و بیش اور جو اس غیر مرد سے اولاد ہو وہ مرغیوں کے بچوں کی طرح نصفا نصف تقسیم ہو جائے گی یعنی نصف بچے تو اس پاک دامن کے خاوند کو ملیں گے اور نصف دیگر اُس کو ملیں گے جس کے ساتھ یارا نہ اولاد کے لئے (۲۳۶) لگایا گیا۔ اب اگر چہ آریہ صاحبان اس کام سے کچھ بھی نفرت نہیں کرتے مگر میں جانتا ہوں کہ اب بھی کئی کروڑ ہندو اسی آریہ ورت میں ایسے ہوں گے کہ وید کی اس تعلیم کو اُن کا دل ہرگز منظور نہیں کرتا ہوگا اور مسلمانوں کی طرح ضرورت کے وقت دوسری شادی کرتے ہوں گے اس سے ظاہر ہے کہ شریف ہندوؤں کی فطرت نے بھی ضرورت کے وقت نکاح ثانی کو پسند کیا ہے اگر تم پنجاب میں ہی تلاش کرو تو ہزار ہا دولت مند اور امیر ہندو ایسے نکلیں گے کہ وہ دو دو تین تین بیویاں رکھتے ہوں گے مگر بجز اس قلیل گروه آریوں کے کوئی شریف با عزت ہندو اس بات کو منظور نہیں کرے گا کہ اپنی جوان خوب صورت بیوی کو رات کو دوسرے کے ساتھ ہم بستر کراوے اگر یہ بے غیرتی نہیں تو پھر بے غیرتی اور بے شرمی کس چیز کا نام ہے؟ مگر کئی بیویاں کرنے کا طریق مسلمانوں کی طرح ہندوؤں میں بھی ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور اس وقت کے ہندو راجے بھی برابر اس کے کار بند ہیں اور ہم بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ کئی بیویاں کرنے کا طریق فقط اسی زمانہ میں ہندوؤں میں پیدا نہیں ہوا بلکہ ہندوؤں کے وہ بزرگ جو او تار کہلاتے تھے اُن کا تعدد ازواج بھی ثابت ہے۔ چنانچہ کرشن جی کی ہزاروں بیویاں بیان کی جاتی ہیں اور اگر ہم اس بیان کو مبالغہ خیال کریں تو اس میں شک نہیں کہ دس ہیں تو ضرور ہوں گی۔ راجہ رام چندر کے باپ کی بھی دو بیویاں تھیں اور جہاں تک ہمیں معلوم ہے وید میں کہیں تعدد ازواج کی ممانعت نہیں پائی جاتی ور نہ یہ بزرگ لوگ ایسا کام کیوں کرتے جو وید کے برخلاف تھا ایسا ہی باوا نا نک صاحب جو ہندو قوم میں ایک بڑے مقدس آدمی شمار کئے گئے ہیں اُن کی بھی دو بیویاں تھیں ۔