چشمہٴ معرفت — Page 243
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۳ چشمه معرفت کے لوگ اپنے مقدمات آپ سے فیصلہ کراتے تھے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا آنجناب کی عدالت میں مقدمہ آیا تو آنجناب نے تحقیقات کے بعد یہودی کو سچا کیا اور مسلمان پر اُس کے دعوے کی ڈگری کی ۔ پس بعض نادان مخالف جو غور سے قرآن شریف نہیں پڑھتے وہ ہر ایک مقام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے نیچے لے آتے ہیں حالانکہ ایسی سزائیں خلافت یعنی بادشاہت کی حیثیت سے دی جاتی تھیں۔ بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ کے بعد نبی جدا ہوتے تھے اور بادشاہ جدا ہوتے تھے جو امور سیاست کے ذریعہ سے امن قائم رکھتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہ دونوں عہدے خدا تعالیٰ نے آنجناب ہی کو عطا کئے اور جرائم پیشہ لوگوں کو الگ کر کے باقی لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ تھا وہ آیت مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے وَقُل لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ وَالْأُمِينَ أَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ البلغ الجز و نمبر ۳ سورۃ آل عمران ( ترجمہ ) اور اے پیغمبر اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔ پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پا گئے اور اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچادو۔ اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم اُن سے جنگ کرو ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھانہ بحیثیت رسالت جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - الجزو نمبر ۲ سورۃ البقرہ ۔ ( ترجمہ ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔ خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف کا ذکر کر کے تعدد ازواج پر اعتراض کیا اس کے ال عمران : ۲۱ البقرة : ١٩١ ۲۳۴