چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 244

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۴ چشمه معرفت جواب میں اس قدر ہم لکھنا کافی سمجھتے ہیں کہ اگر چہ آریہ سماج والے تعدد ازواج کو نظر نفرت سے دیکھتے ہیں مگر بلاشبہ وہ اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں جس کے لئے اکثر انسان تعدد ازواج کے لئے مجبور ہوتا ہے اور وہ یہ کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اس کے لئے یہ ضروری امر ۲۳۵ ہے کہ اپنی نسل باقی رہنے کے لئے کوئی احسن طریق اختیار کرے اور لا ولد رہنے سے اپنے تئیں بچادے اور یہ ظاہر ہے کہ بسا اوقات ایک بیوی سے اولاد نہیں ہوتی اور یا ہوتی ہے اور باعث لاحق ہونے کسی بیماری کے مر مر جاتی ہے اور یا لڑکیاں ہی پیدا ہوتی ہیں اور ایسی صورت میں مرد کو دوسری بیوی کی نکاح کے لئے ضرورت پیش آتی ہے خاص کر ایسے مرد جن کی نسل کا مفقود ہونا قابل افسوس ہوتا ہے اور اُن کی ملکیت اور ریاست کو بہت حرج اور نقصان پہنچتا ہے۔ ایسا ہی اور بہت سے وجوہ تعدد نکاح کے لئے پیش آتے ہیں مگر بالفعل ہم صرف یہ ایک ہی وجہ بیان کر کے قرآن شریف کی اس تعلیم کا جو تعدد ازواج کی ضرورت پیش کرتی ہے وید کی اس تعلیم سے مقابلہ کرتے ہیں جو ضرورت مندرجہ بالا کے پورا کرنے کے لئے وید نے پیش کی ہے۔ سنو ! جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں قرآن شریف میں انسانی ضرورتوں کے پورا کرنے کے لئے تعدد ازواج کو روا رکھا ہے اور منجملہ ان ضرورتوں کے ایک یہ بھی ہے کہ تا بعض صورتوں میں تعدد ازواج نسل قائم رہ جانے کا موجب ہو جائے کیونکہ جس طرح قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے اسی طرح نسل سے بھی تو میں بنتی ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں کہ کثرت نسل کے لئے نہایت عمده و طریق تعدد ازواج ہے پس وہ برکت جس کا دوسرے لفظوں میں نام کثرت نسل ہے اس کا بڑا بھاری ذریعہ تعدد ازواج ہی ہے یہ تو وہ ذریعہ کثرت نسل کا ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے اور اس کے برخلاف جو وید نے ذریعہ پیش کیا ہے جس کو وہ نہایت ضروری سمجھتا ہے وہ نیوگ ہے یعنی یہ کہ اگر کسی کے گھر میں پہلی بیوی سے اولاد نہ ہو تو اولاد حاصل کرنے کے لئے دو طریق ہیں۔