چشمہٴ معرفت — Page 242
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۴۲ چشمه معرفت امانت کرے تو وہ کبھی حوالہ نہ کریں گے مگر صرف اُس وقت کہ تو اُن کے سر پر کھڑا ہوگا۔ یہ بد معاملگی اس لئے کرتے ہیں کہ وہ کھلے کھلے طور پر کہتے ہیں کہ عرب کے ان پڑھ لوگوں کا حق مار لینے میں ہم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی اور دیدہ دانستہ خدا پر جھوٹ بولتے ہیں۔ غرض عرب کے مشرکوں کی طرح اس ملک کے اہل کتاب بھی جرائم پیشہ ہو گئے تھے عیسائیوں نے تو کفارہ کے مسئلہ پر زور دے کر اور اس پر بھروسہ کر کے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم پر سب جرائم حلال ہیں اور یہودی کہتے تھے کہ ہم ارتکاب جرائم کی وجہ سے صرف چند روز دوزخ ۲۳۳ میں پڑیں گے اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةٍ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ - الجز نمبر ۳ سورة آل عمران ( ترجمہ ) یہ دلیری اور جرات اِس سے اُن کو پیدا ہوئی کہ اُن کا یہ قول ہے کہ دوزخ کی آگ اگر ہمیں چھوٹے گی بھی تو صرف چند روز تک رہے گی اور جو افتر اپردازیاں وہ کرتے ہیں انہیں پر مغرور ہو کر ان کے یہ خیالات ہیں۔ پس جب کہ اہل کتاب اور مشرکین عرب نہایت درجہ بدچلن ہو چکے تھے اور بدی کر کے سمجھتے تھے کہ ہم نے نیکی کا کام کیا ہے اور جرائم سے باز نہیں آتے تھے اور امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے تو خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہاتھ میں عنان حکومت دے کر اُن کے ہاتھ سے غریبوں کو بچانا چاہا اور چونکہ عرب کا ملک مطلق العنان تھا اور وہ لوگ کسی بادشاہ کی حکومت کے ماتحت نہیں تھے اس لئے ہر ایک فرقہ نہایت بے قیدی اور دلیری سے زندگی بسر کرتا تھا اور چونکہ اُن کے لئے کوئی سزا کا قانون نہ تھا اس لئے وہ لوگ روز بروز جرائم میں بڑھتے جاتے تھے پس خدا نے اس ملک پر رحم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ملک کے لئے نہ صرف رسول کر کے بھیجا بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی بنا دیا اور قرآن شریف کو ایک ایسے قانون کی طرح مکمل کیا جس میں دیوانی فوجداری مالی سب ہدایتیں ہیں سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک بادشاہ ہونے کے تمام فرقوں کے حاکم تھے اور ہر ایک مذہب ال عمران : ۲۵