چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 231

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۱ چشمه معرفت پھر ماسوا اس کے اگر اس وجہ سے انکار کیا جاتا ہے کہ یہ امر خارق عادت ہے تو کیا بموجب اصول آریوں کے وید کے بعد الہام الہی ہونا یہ خارق عادت امر نہیں ہے پس جبکہ لیکھرام کی موت نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ وہ قادر خدا اس زمانہ میں بھی برخلاف وید کے مقرر کردہ قانون قدرت کے الہام کرتا ہے تو وید کا سارا قانون قدرت دریا بُر د ہو گیا اس صورت میں وید کی بات کا کوئی بھی اعتبار نہ رہا۔ ظاہر ہے کہ جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اُس پر اعتبار نہیں رہتا اور اگر لیکھرام والی پیشگوئی سے تسلی نہیں ہوئی تو پھر درخواست کرنے سے اور کوئی ذریعہ تسلی کا پیدا ہوسکتا ہے اور خدا تعالیٰ کی صد ہا الہامی پیشگوئیاں جو پوری ہو چکی ہیں تسلی دے سکتی ہیں۔ غرض وید کا قانون قدرت ایسا جھوٹا ثابت ہوا کہ ساتھ ہی وید کو بھی لے ڈوبا پھر اسی بنا پر اعتراض کرنا حیا سے بعید ہے۔ ظاہر ہے کہ وید نے دعوی کیا تھا کہ اس کے بعد خدا کی قوت تکلّم ہمیشہ کے لئے مسلوب رہے گی مگر ہم نے چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ ثابت کر دیا کہ وید نے جو کچھ دعویٰ کیا ہے اور جو کچھ آئندہ کے لئے خدا کے الہام کے بارہ میں لکھا ہے کہ وہ محال اور قانون قدرت کے برخلاف ہے وہ سراسر جھوٹ اور خلاف حق ہے بلکہ خدا ہمیشہ اپنے بندوں کو الہام کرتا ہے تو پھر بتلاؤ کہ اس کے بعد بہار ہارا سی و ید کو پیش کرنا جس کے قانون قدرت کا نمونہ ہم دیکھ چکے ہیں۔ کس قدر خلاف حیا و شرم ہے۔ غرض لیکھرام کی موت نے ثابت کر دیا کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے کہ اس کے بعد الہام نہیں ہے تو پھر وید کے مقرر کردہ قانون قدرت پر اعتبار کیا رہا خدا تعالی کے کروڑ با قانون (۲۲۳) قدرت ابھی مخفی ہیں اور آہستہ آہستہ ظاہر ہو رہے ہیں مگر افسوس ان لوگوں پر کہ دانستہ آنکھ بند کر لیتے ہیں اگر یورپ کا کوئی شخص یہ بات ظاہر کرے کہ میں پتھر میں سے پانی نکال سکتا ہوں یا تمام پتھر کو پانی بنا سکتا ہوں تو اُس کے مقابل پر یہ لوگ دم بھی نہ ماریں اور فی الفور آمَنَّا وَصَدَّقْنَا کہنے لگیں مگر خدا کے کلام نے جو کچھ بیان کیا اس کو نہیں مانتے۔