چشمہٴ معرفت — Page 232
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۲ چشمه معرفت رہا اعتراض شق القمر تو ہم پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ یہ وہ معجزہ ہے کہ جو عرب کے ہزاروں کافروں کے روبرو بیان کیا گیا ہے پس اگر یہ امر خلاف واقعہ ہوتا تو یہ اُن لوگوں کا حق تھا کہ وہ اعتراض پیش کرتے کہ یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا خاص کر اس حالت میں کہ شق القمر کی آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکا جادو ہے جو آسمان تک پہنچ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَانْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ لے یعنی قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور جب یہ لوگ خدا کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ایک پکا جادو ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتا تو اُن کا حق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادو کہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا جس کا نام شق القمر رکھا گیا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیشگوئیوں کے ہیں اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتا ہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ایک استعارہ ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک یہ اعتراض پیش کیا کہ قرآن شریف میں لوگوں کو زبر دستی مسلمان بنانے کا حکم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو نہ اپنی ذاتی کچھ عقل ہے اور نہ علم ۲۴ صرف پادریوں کا کاسہ لیس ہے چونکہ پادریوں نے اپنے نہایت کینہ اور بغض سے جیسا کہ اُن کی عادت ہے محض افترا کے طور پر اپنی کتابوں میں یہ لکھ دیا ہے کہ اسلام میں جبراً مسلمان بنانے کا حکم ہے سو اُس نے اور اُس کے دوسرے بھائیوں نے بغیر تحقیق اور تفتیش کے وہی پادریوں کے مفتر یا نہ الزام کو پیش کر دیا۔ قرآن شریف میں تو کھلے کھلے طور پر یہ آیت موجود ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَى یعنی دین میں کوئی جبر نہیں ہے تحقیق ہدایت اور گمراہی میں کھلا کھلا فرق ظاہر ہو گیا ہے پھر جبر کی کیا حاجت ہے تعجب کہ باوجودیکہ القمر: ٣٢ البقرة: ۲۵۷