چشمہٴ معرفت — Page 230
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۳۰ چشمه معرفت دن یہ کہنا جھوٹ تھا کہ مجھے اپنی امت کی کچھ بھی خبر نہیں کہ میرے بعد انہوں نے کون سا طریق اختیار کیا کیونکہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہے کہ وہ قیامت سے پہلے دنیا میں واپس آئیں گے اور عیسائیوں سے لڑائیاں کریں گے تو پھر قیامت کے دن انکار کر کے یہ کہنا کہ عیسائیوں کے بگڑنے کی مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں سراسر جھوٹ ہوگا ۔ نَعُوذُ بِاللهِ مِنْهُ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا کہ شق القمر خلاف قانون قدرت ہے اور ایسا ہی پتھر سے پانی نکلنا جو قرآن شریف میں مذکور ہے وہ بھی خلاف قدرت ہے سو اول ہم پتھر کی نسبت جواب دیتے ہیں کہ مضمون خواں کو پتھروں کے اقسام معلوم نہیں۔ صرف انکار کے جوش سے ایک نادان بچہ کی طرح باتیں کر رہا ہے۔ بعض ایسے پتھر اب تک پائے جاتے ہیں جن میں یہ خاصیت ہے کہ اگر اُن پر کوئی شربت ڈال دیا جائے تو پانی پتھر کے اندر سے نیچے آجاتا ہے اور شیرینی کا حصہ اوپر رہ جاتا ہے بعض پتھر ایسے ہیں کہ اُن میں پرندوں کی تصویر جم جاتی ہے۔ اور بعض پتھر لوہے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور بعض پتھروں میں یہ خاصیت دیکھی گئی ہے کہ سرکہ میں ڈالنے سے ایک زندہ چیز کی طرح جست کر کے باہر آ جاتے ہیں اور بعض پتھر تریاق اور بعض زہر ہوتے ہیں اور وہ بھی پتھر ہی ہوتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کا ہیرا بن کر اُن میں سے روشنی کی شعاع نکلتی ہے اور یاقوت فیلم وغیرہ سب پتھر ہی ہیں جو بقدرت قادر مطلق عجیب و غریب خواص اپنے اندر رکھتے ہیں۔ حکیموں کا پرانا مقولہ مشہور ہے کہ خوَاصُ الاَ شَيَاءِ حق یعنی یہ حق بات ہے کہ ہر ایک ۲۲۲چیز میں ایک خاصیت ہوتی ہے اور انہیں خواص پر اطلاع پا کر انسانوں نے ایجادیں کی ہیں اور کر رہے ہیں اور خدا کی مخلوق میں اس قدر خواص پائے جاتے ہیں کہ جو کچھ اب تک دریافت ہوا ہے گویا وہ ایک دریا میں سے ایک قطرہ ہے پھر میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کون سی عقلمندی ہے کہ مضمون خواں نے خواص اشیاء سے انکار کر دیا۔ کیا یہ تعجب کی جگہ ہے کہ ایک پتھر ہو جس کے نیچے بہت پانی ہواور پتھر کے پھٹنے سے پانی نکل آوے۔ پتھر کو پانی سے ایسا تعلق ہے جیسا کہ مچھلی کو دریا ہے ۔