چشمہٴ معرفت — Page 229
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۹ چشمه معرفت کسی صحیح حدیث میں بھی یہ ذکر نہیں کہ حضرت عیسی معہ جسم آسمان پر چلے گئے تھے ہاں یہ ذکر ہے کہ مسیح کے نام پر ایک شخص آنے والا ہے جو اسی اُمت میں سے ہو گا مگر یہ کہیں ذکر نہیں کہ وہ آسمان پر گیا تھا اور پھر آسمان سے واپس آئے گا۔ نزول کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت حدیثوں میں موجود ہے وہ اعزاز کے طور پر ہے اگر کوئی شخص آسمان سے واپس آنے والا ہوتا تو اس موقعہ پر رجوع کا لفظ ہونا چاہیے تھا نہ نزول کا لفظ ۔ اکثر نادان اس سے دھوکا کھاتے ہیں کہ نزول اترنے کو کہتے ہیں اور پھر اس فقرہ کے ساتھ آسمان کا لفظ اپنی طرف سے جوڑ لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ آنے والا آسمان سے اترے گا حالانکہ تمام حدیثیں پڑھ کر دیکھ لوکسی صحیح حدیث میں آسمان کا لفظ نہیں پاؤ گے اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے کہ ہر ایک زبان کا یہ محاورہ ہے کہ ایک شخص کی آمد کو جب بطو را کرام و اعزاز بیان کیا جاتا ہے تو یہی کہتے ہیں کہ وہ فلاں جگہ اترا ہے جیسا کہ ہم معزز انسان کو کہہ سکتے ہیں کہ آپ کہاں اُترے ہیں ۔ پس اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آپ آسمان سے اترے ہیں اسی وجہ سے عربی زبان میں نزیل مسافر کو کہتے ہیں اور جو راہ میں مسافروں کے اترنے کی جگہ ہوتی ہے اس کو منزل کہتے ہیں اور واپس آنے والے کے لئے رجوع کا لفظ بولا جاتا ہے نہ نزول کا۔ ماسوا اس کے قرآن شریف میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت صاف فرما دیا ہے کہ وہ فوت ہو چکے جیسا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسی سے بطور حکایت ذکر کر کے فرماتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ لا یعنی قیامت کو خدا تعالیٰ عیسی سے پوچھے گا کہ کیا تو نے اپنی قوم کو یہ تعلیم دی تھی کہ مجھے اور میری ماں کو خدا کر کے مانا کرو تو وہ جواب دیں گے کہ ۲۲۱ جب تک میں اپنی قوم میں تھا میں اُن کو یہی تعلیم دیتا رہا کہ خدا ایک ہے اور میں اس کا رسول ہوں اور پھر جب تو نے مجھے کو وفات دے دی تو بعد اُس کے مجھے اُن کے عقائد کا کچھ علم نہیں ۔ اس آیت میں حضرت عیسی اپنی وفات کا صاف اقرار کرتے ہیں اور اس میں یہ بھی اقرار ہے کہ میں دنیا میں واپس نہیں گیا کیونکہ اگر وہ دنیا میں واپس آئے ہوتے تو پھر اس صورت میں قیامت کے ا المائدة : ١١٨