چشمہٴ معرفت — Page 228
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۸ چشمه معرفت خدا تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ انسان مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ جائے ماسوا اس کے یہ خیال سرا سر غلط ہے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام آسمان پر چڑھ گئے تھے ۔ قرآن شریف میں کئی جگہ صاف فرما دیا ہے کہ کوئی شخص مع جسم عنصری آسمان پر نہیں جائے گا بلکہ تمام زندگی زمین پر بسر کریں گے ۔ یہ خدا کا وعدہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوْتُوْنَ وَمِنْهَا تُخْرَجُوْنَ کے یعنی زمین پر ہی تم زندہ رہو گے اور زمین پر ہی تم مرو گے اور زمین میں سے ہی تم نکالے جاؤ گے۔ پس اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ انسان کا مع جسم عصری آسمان پر جانا اس وعدہ کے برخلاف ہے اور خدا پر تختلف وعدہ جائز نہیں اور اس وعدہ میں کوئی استثناء نہیں۔ اور پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا لے یعنی کیا ہم نے زمین کو ایسے طور سے پیدا نہیں کیا جو اپنے تمام باشندوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے خواہ وہ زندوں میں سے ہوں اور خواہ مر دوں میں سے ہوں اور یہ بھی خدا کا وعدہ ہے ۔ اور پھر ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ و مَتَاع إلی چنین سے یعنی تمہارا زمین پر ہی قرار ہوگا اور تم زمین پر ہی اپنے موت تک زندگی بسر کرو گے۔ یہ بھی خدا کا وعدہ ہے اور پھر ایک موقع پر قرآن شریف میں یہ ذکر ہے کہ کفار قریش نے ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ معجزہ طلب کیا کہ اُن کے رو برو آسمان پر چڑھ جائیں تو آپ کو خدا تعالیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولاً کے یعنی ان لوگوں کو یہ جواب دے کہ خدا تعالی اس بات ۲۲۰ سے پاک ہے کہ اپنے وعدہ میں مختلف کرے (وعدہ کا بھی ذکر ہو چکا ہے ) اور میں تو صرف ایک انسان ہوں جو تمہاری طرف بھیجا گیا۔ اب ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر یہ تہمت ہے کہ گویا وه مع جسم عصری آسمان پر چلے گئے تھے یہ عقیدہ اسلام میں صرف اُن عیسائیوں کے ذریعہ سے آیا ہے جو ابتداء اسلام میں مسلمان ہو گئے تھے ورنہ قرآن شریف میں اس کا کہیں ذکر نہیں اور ل الاعراف: ٢٦ ل المرسلت : ۲۷،۲۶ - البقرة : ۳۷ ۴ بنی اسرآئیل : ۹۴