چشمہٴ معرفت — Page 222
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۲ چشمه معرفت ن سے سب کچھ پیدا کر لیا اور چھ دن میں زمین و آسمان بنایا اور ساتویں دن آرام کیا حالانکہ علم جیالوجی سے ثابت ہے کہ لاکھوں برسوں میں زمین بنی ۔ سو ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس میں کیا شک ہے کہ سب کچھ حسن سے یعنی حکم سے ہی پیدا کیا گیا ہے خواہ لاکھوں برسوں میں ایک چیز بنے اور خواہ کروڑوں برسوں میں مگر اول خدا کا حکم ہے ا کا حکم ہونا ضروری ہے ہر ایک شخص جو خدا نے شخص جو خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے وہ اس سے انکار نہیں کر سکتا جو ہر ایک محو واثبات حکم الہی سے وابستہ ہے ہاں جو شخص ص و دہریہ اور خدا تعالیٰ سے منکر ہے اس کا یہ قول ہوگا کہ ہر ایک چیز بغیر ضرورت حکم کے خود بخود بن جاتی ہے مگر جب کہ خدا تعالیٰ کی ہستی ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے ارادہ کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی تو اس سے ہر ایک ایماندار کو ماننا پڑتا ہے کہ کوئی چیز بغیر اُس کے حکم کے ظہور پذیر نہیں ہو سکتی کسی طاقت کی مجال نہیں ہے کہ بغیر خدا تعالیٰ کے حکم کے کچھ کام کر سکے اور جس آیت میں کُن کا لفظ ہے وہ آیت یہ ہے اِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ لے یعنی خدا کا حکم اس طرح پر ہوتا ہے کہ جب وہ کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہو تو وہ ہو جاتی ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ فی الفور بلا توقف ہو جاتی ہے کیونکہ آیت میں فی الفور کا لفظ نہیں نہیں ہے بلکہ آیت اطلاق پر دلالت کرتی ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ چاہے تو خدا تعالیٰ اس امر کو جلدی سے کر دے اور چاہے تو اس میں دیر ڈال دے جیسا کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت ۲۱۴ میں بھی یہی مشہود و محسوس ہے کہ بعض امور جلدی سے ہو جاتے ہیں اور بعض دیر سے ظہور میں آتے ہیں۔ پس یہ کونسا محل اعتراض ہے اور اگر انسان کے دل میں کچھ شرم اور حیا ہو تو ایسے اعتراض کی حقیقت سوچ کر شرمندگی سے مر ہی رہے گا مگر ان لوگوں کو کچھ شرم بھی تو نہیں ہے۔ رہی یہ بات کہ خدا نے کچھ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا سواول تو واضح ہو کہ آرام کا لفظ قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا۔ ہاں تو ریت میں یہ لفظ ہے سو وہ کوئی استعارہ ہو گا لیکن اس دھوکہ کے دور کرنے کے لئے اس موقعہ پر قرآن شریف نے ایک ليس : ۸۳ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے نہیں “ زائد ہے۔ (ناشر)