چشمہٴ معرفت — Page 223
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۳ چشمه معرفت اور لفظ اختیار کیا ہے اور وہ یہ ہے وَ مَا مَسَّنَا مِنْ تُغُوبِ لے یعنی ہم نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ہم اس سے تھکے نہیں۔ یہ لفظ گویا اُس لفظ کا رد ہے کہ خدا نے ساتویں دن آرام کیا کیونکہ ظاہری معنے اگر لئے جاویں تو اس سے خدا کا تھکنا ہی پایا جاتا ہے وجہ یہ کہ آرام وہی کرتا ہے جو تھکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تھکنے سے پاک ہے۔ کوئی نقص اُس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ رہی یہ بات کہ خدا تعالیٰ نے چھ دن میں زمین و آسمان پیدا کیا۔ سوقرآن سے ہی ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خدا کے دن انسان کے دنوں کے برابر نہیں۔ ایک جگہ قرآن شریف میں لکھا ۵۰۰۰۰ ہے کہ خدا کا دن ایسا ہے جیسا کہ تمہارا ہزار برس اور ایک جگہ خدا کا دن پچاس ہزار برس کا لکھا ہے۔ پس ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان چھ دنوں سے کتنی مدت مراد ہے ہاں ہم یقیناً کہتے ہیں کہ ان چھ دنوں سے مراد وہ دن نہیں ہیں جو انسان کے دن ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب سورج اور چاند اور زمین اور آسمان کا ہی کچھ وجود نہ تھا تو ان انسانی دنوں کا کیوں کر اور کہاں سے وجود تھا۔ اور پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے خود توضیح سے فرما دیا کہ انسانی دن اور ہوتے ہیں اور خدا کے دن اور تو پھر اعتراض محض شرارت یا حماقت ہے۔ پھر ماسوا اس کے جیالوجی کی تحقیقات پر کون سی سچائی کی مہر چمکتی ہوئی نظر آتی ہے یہ تمام خیالات فنی بلکہ محض شکی اور وہمی ہیں اور آئے دن ان میں تغیر تبدل ہوتا رہتا ہے۔ پہلے حکماء (۲۱۵) یونانیوں نے ان تمام امور میں جو تحقیقاتیں کی تھیں وہ تو سائنس وغیرہ علوم جدیدہ نے جو بعد میں ظاہر ہوئے خاک میں ملادیں اور اُن کا نام و نشان نہ رہا۔ ایسا ہی جو حال کی تحقیقا تیں ہیں وہ بھی کسی آئندہ زمانہ میں کسی اور جدید تحقیقات سے خاک میں مل جائیں گی۔ اب تک جو حکماء کی رائیں ظاہر ہوئی ہیں اُن میں کبھی آسمان کو گردش دی گئی اور کبھی زمین کو اور شاید آئندہ کوئی تیسرا مذہب نکل آوے جو آسمان وزمین دونوں کو طاق میں رکھ دے اور کوئی اور ہی بات بتلاوے۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے یہ اعتراض قرآن شریف پر سنایا کہ آدم کی پسلی سے عورت ق ۳۹