چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 221

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۱ چشمه معرفت شدہ صفات کے برخلاف ہو یا اس کے ذکر کردہ عہد کے منافی ہو وہی اُس کے قانونِ قدرت کے بر خلاف سمجھا جائے گا مثلاً اُس کی صفات ثابت شدہ سے یہ امر ہے کہ اُس کا کوئی ثانی نہیں اور یہ امر ہے کہ اس پر موت وارد نہیں ہو سکتی اور نیز یہ امر ہے کہ اپنی صفات کے مطابق وہ کسی بات کے کرنے سے عاجز نہیں اور یا مثلاً اس کا یہ عہد ہے کہ جو شخص مرجائے پھر اس کو دنیا میں آباد کرنے کے لئے واپس نہیں لاتا۔ سو جو بات ان ثابت شدہ صفات اور عہد کے بر خلاف ہو اس کی طرف وہ توجہ نہیں کرتا۔ وہ اپنا ثانی کسی کو نہیں بنا تا وہ خود کشی نہیں کرتا اور کسی پر موت وارد کر کے پھر اُس کو دنیا میں لاکر آباد نہیں کرتا اور ان امور کے سوا وہ سب کچھ کر سکتا ہے کس کی یہ مجال ہے کہ وہ یہ کہے کہ صرف فلاں حد تک اُس کی قدرتیں ہیں آگے نہیں یا فلاں فلاں امور اُس کے احاطہ اقتدار سے باہر ہیں اور وہ اُن کے کرنے سے عاجز ہے ۔ ہاں اُس کی عجائب قدرتیں ہر ایک کے ساتھ یکساں نہیں جیسے جیسے انسان اس سے تعلق محبت اور اخلاص پیدا کرتا ہے اسی قدر اُس پر قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں اور جو اُس کے کام عوام کے لئے محال ہیں اور ظاہر نہیں ہوتے وہ خواص کے لئے باعث اُن کے تعلق کے ظاہر کئے جاتے ہیں ۔ غرض اُس کی ذات میں بے شمار عجائب قدرتیں ہیں مگر اسی پر ظاہر ہوتی ہیں جو اُس کی محبت میں گم ہو جاتا ہے وہ ان کے لئے وہ کام دکھاتا ہے جو ایک اندھا فلسفی اس کام (۲۱۳) کو محال سمجھتا ہے وہ اپنے صادق محبوں کے لئے وہ عجائبات ظاہر کرتا ہے جو دنیا کے عقلمند اُس کو فوق العادت سمجھتے ہیں اُس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں اور صرف ایسی بات وہ نہیں کرتا جو اس کا عہد یا اُس کے صفات روکتے ہوں۔ مبارک وہ جو اُس کی قدرتوں کی نسبت اپنے ایمان کو ترقی دیں ورنہ بے ایمان کی دعا بھی قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ اپنی شیطانی نیچریت کی وجہ سے اُس کو قادر نہیں جانتا۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ