چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 220

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۲۰ چشمه معرفت ایسے لوگوں کو ان جرائم اور بدعقائد کی اطلاع دینا کہ وہ اُن سے بکلی بے خبر ہیں یہ گویا اُن کو ان گناہوں کی طرف خود میلان دیتا ہے۔ سوخدا کی وحی حضرت آدم سے تخم ریزی کی طرح شروع ہوئی اور وہ تم خدا کی شریعت کا قرآن شریف کے زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ کر ایک بڑے درخت کی طرح ہو گیا اور ہم لکھ چکے ہیں کہ وید پر یہ سراسر تہمت ہے کہ وہ ابتدائے زمانہ کی کتاب ہے بلکہ وہ متفرق وقتوں کا ایک مجموعہ ہے جیسا کہ محققین اس کی نسبت رائے ظاہر کر چکے ہیں ۔ اور ابتدائے زمانہ کا دعویٰ جو کیا جاتا ہے اُس کے رد کرنے کے لئے وید ہی کافی ہے۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ وید کے ذریعہ سے جو کچھ آریوں کو فیض پہنچا وہ تو یہی ہے کہ اس ملک کے کروڑہا ہندو لوگ مخلوق پرستی کی بلا میں گرفتار ہو گئے۔ ان لوگوں نے مخلوق پرستی میں حد ہی کر دی کہ نہ پانی چھوڑا نہ آگ ۔ نہ سورج نہ چاند نہ پتھر نہ انسان نہ درخت بلکہ ہر ایک عجیب چیز کو خدا سمجھ لیا ۔ آخر جب قرآن شریف کا اس ملک میں مبارک قدم پڑا تو کروڑہا ہندوؤں کو اُس نے مخلوق پرستی کی بلا سے نجات دی اور دے رہا ہے مگر پھر یہ لوگ نا شکر گذار ہیں اور ناحق وید وید کر رہے ہیں۔ شاید وید کے پہلے ہاتھ جو ان کو لگ چکے ہیں وہ بھول گئے ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے قرآن شریف پر ایک یہ اعتراض کیا کہ اُس میں سینکڑوں باتیں قانون قدرت کے برخلاف ہیں جب تک مسلمان لوگ اُن کی مطابقت قانونِ قدرت سے نہ کر دکھا ئیں تب تک ایمان لانے کے لئے ہم لوگوں کو مدعو نہ کریں۔ اس بیہودہ اعتراض کا ہم پہلے بھی جواب دے آئے ہیں کہ خدا کے قانون قدرت کی وہ شخص حد بست کر سکتا ہے جو خدا سے بھی بڑھ کر ہو ورنہ یہ خیال نہایت بے ادبی اور بے ایمانی ہے کہ وہ خدا جس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور جس کی قدرتیں اُس کی ذات کی طرح نا پیدا کنار ہیں اُس کے عجائبات قدرت کو کسی حد تک محدود کر دیا جائے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے تو پھر اُس کی صفات کیوں کر محدود ہو جائیں گی ہاں جو امر اُس کے ثابت ۲۱۲