چشمہٴ معرفت — Page 219
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۱۹ چشمه معرفت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ملتا ہے اور ہم ہر ایک امر میں اُسی ذریعہ سے فیضیاب ہیں اور چونکہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تمام انسانوں کو ایک ہی قوم بناوے اس لئے ہم کبھی دوسری زبانوں میں الہام پاتے ہیں مگر اکثر خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ عربی میں ہی ہوتا ہے بلکہ بہت حصہ خدا تعالیٰ کے مکالمہ مخاطبہ کا قرآن شریف کی آیتیوں کے ساتھ ہوتا ہے جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے کہ قرآن شریف خدا کا کلام ہے اور اس طور پر ایک نئے طریق سے مہم کو یقین دلایا جاتا ہے کہ جس رسول پر وہ ایمان رکھتا ہے وہ سچا رسول ہے اور جس کتاب کو وہ مانتا ہے یعنی قرآن شریف کو وہ خدا کی کتاب ہے ۔ غرض جبکہ اب بھی مختلف زبانوں میں الہام ہوتا ہے اور صد ہا پیشگوئیاں اُس الہام کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہیں تو کیا اب تک ثابت نہ ہوا کہ خدا ہر ایک زبان میں الہام کرتا ہے کیا سچی خوابیں خدا کی طرف سے نہیں ہوتیں کیا اُن میں بھی ویدک سنسکرت لازمی امر ہے۔ اب ہم مضمون پڑھنے والے کی پیش کردہ نشانیوں کو اختصار کے ساتھ بیان کر چکے اور اس کے بعد ہم اُن اعتراضات کا جواب دیں گے جو اُس نے اپنی تجویز کردہ نشانیوں کی بنا پر قرآن شریف پر کئے ہیں۔ اول یہ اعتراض کیا ہے کہ قرآن شریف آغا ز دنیا میں ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا ہم پہلے ۲۱ بھی اس اعتراض کا جواب لکھ آئے ہیں کہ چونکہ قرآن شریف امر معروف اور نہی منکر میں کامل ہے اور خدا نے اُس میں یہی ارادہ کیا ہے کہ جو کچھ انسانی فطرت میں انتہا تک بگاڑ ہوسکتا ہے اور جس قدر گمراہی اور بدعملی کے میدانوں میں وہ آگے سے آگے بڑھ سکتے ہیں اُن تمام خرابیوں کی قرآن شریف کے ذریعہ سے اصلاح کی جائے اس لئے ایسے وقت میں اُس نے قرآن شریف کو نازل کیا کہ جب کہ نوع انسان میں یہ تمام خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں اور رفتہ رفتہ انسانی حالت نے ہر ایک بدعقیدہ اور بدعمل سے آلودگی اختیار کر لی تھی اور یہی حکمت الہیہ کا تقاضا تھا کہ ایسے وقت میں اُس کا کامل کلام نازل ہو کیونکہ خرابیوں کے پیدا ہونے سے پہلے