چشمہٴ معرفت — Page 207
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۷ گئے ہیں اور وہ راہیں اختیار کرتے ہیں جو تیری مرضی کے موافق نہیں ۔ آمین۔ اب دیکھو کہ قرآن شریف کی یہ سورۃ جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے کیسی توحید سے پُر ہے جو کسی جگہ انسان کی طرف سے یہ دعویٰ نہیں کہ میں خود بخود ہوں اور خدا کا پیدا کردہ نہیں اور نہ یہ دعوی ہے کہ میرے اعمال اپنی قوت اور طاقت سے ہیں اور وید کی طرح اُس میں یہ دعا نہیں کہ اے پر میشر ہمیں بہت سی گوئیں دے اور بہت سے گھوڑے دے اور بہت سالوٹ کا مال دے“ بلکہ یہ دعا ہے کہ ہمیں وہ راہ دکھا جس راہ سے انسان تجھے پالیتا ہے اور تیرا روحانی انعام واکرام اسے نصیب ہوتا ہے اور تیرے غضب سے بچتا ہے اور گمراہی کی راہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اسی طرح قرآن شریف میں یہ تعلیم نہیں ہے کہ جب ایک انسان مر جاتا ہے تو اُس کی ۱۹۹) روح دوٹکڑے ہو کر شہنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور ہم پہلے اس سے بہت تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں کہ وید کی یہ تعلیم سراسر غلط ہے بلکہ روح اور اُس کی تمام طاقتیں خدا کی پیدائش ہے اور کوئی روح واپس نہیں آتی۔ اس سے ظاہر ہے کہ وید نے روحوں کی پیدائش اور فنا کے بارہ میں دونوں پہلو سے سخت غلطی کی ہے چاہیے کہ اس بارہ میں ہمارے گذشتہ بیان کوغور سے پڑھیں ۔ پھر مضمون پڑھنے والے نے بیان کیا کہ الہامی کتاب کی ایک نشانی یہ ہے کہ اُس میں را جا ہر جا اور والدین اور اولاد کے سب حقوق انصاف سے درج ہوں مگر مجھے تعجب ہے کہ یہ شخص اس قدر جلدی دیانند کی اس تعلیم کو کیوں بھول گیا جو دیدوں کی رو سے ستیارتھ پرکاش میں درج ہے جس میں لکھا ہے کہ اُسی راجا کو ماننا چاہئے جو ویدوں کی تعلیم کے موافق چلتا ہو اس تعلیم میں اس نے صاف اشارہ کیا ہے کہ جو بادشاہ آریہ مذہب کا پابند نہ ہو گو وہ کیسا ہی عادل ہو کیسا ہی رحم کرنے والا ہو کیسا ہی شرائط رعیت پروری پورا کرنے والا ہو اُس کو ہرگز قبول نہیں کرنا چاہیے۔ اور یہی تعلیم تھی جس نے انہیں ایام میں بڑے عقلمند اور سمجھ دار اور تعلیم یافتہ