چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 206

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۶ چشمه معرفت نہیں دے سکتا کہ اس کے مقابل پر وہ عقیدہ دیکھو کہ قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ ۔ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ( ترجمہ ) تمام تعریفیں اور تمام مدح اور تمام استت اور مہما خدا کے لئے مسلم اور مخصوص ہے جو تمام چیزوں کا پیدا کرنے ۱۹۸) والا اور پرورش کرنے والا ہے۔ کوئی چیز بھی ایسی نہیں کہ جو اُس کی پیدا کردہ نہیں اور اُس کی پرورش کردہ نہیں۔ وہ رحمن ہے یعنی وہ بغیر عوض اعمال کے اپنے تمام بندوں کو خواہ کا فر ہیں خواہ مومن اپنی نعمتیں دیتا ہے اور اُن کی آسائش اور آرام کے لئے بے شمار نعمتیں اُن کو عطا کر رکھی ہیں اور وہ رحیم ہے یعنی پہلے تو وہ اپنی رحمانیت سے جس میں انسان کی کوشش کا دخل نہیں ایسے قومی اور طاقتیں اپنے بندوں کو عطا کرتا ہے جن سے نیک اعمال بجالا سکیں اور تکمیل اعمال کے لئے ہر ایک قسم کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور پھر جب اُس کی رحمانیت سے انسان اس لائق ہو جاتا ہے کہ اعمال نیک بجالا سکے تو ان اعمال کی جزا کے لئے خدا تعالیٰ کا نام رحیم ہے۔ اور جب انسان خدا تعالی کی رحیمیت سے فیضیاب ہو کر اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف سے ابدی انعام و اکرام پاوے تو اس ابدی انعام واکرام کے دینے کے لئے خدا تعالیٰ کا نام مالک یوم الدین ہے پھر بعد اس کے فرمایا کہ اے وہ خدا جو ان صفات کا تو جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ نیک امور میں تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔ ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ ان لوگوں کی راہ جن پر تیرا انعام اکرام ہے۔ اور اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیرے غضب کے نیچے ہیں (یعنی ایسی شوخی اور شرارت کے کام کرتے ہیں جو اسی دنیا میں مورد غضب ہو جاتے ہیں ) اور ہمیں اُن لوگوں کی راہ سے بچا جو تیری راہ کو بھول اگر پر میشر خود بخود کچھ دے سکتا تو پھر آریوں کی مکتی محدود کیوں ٹھہرتی ؟ پر میشر میں یہ صفت ہی نہیں تھی کہ اپنی طرف سے بطور فیاضی کچھ عطا کر سکتا تبھی تو مکتی بھی محدود رکھنی پڑی۔ کیسے بدقسمت وہ لوگ ہیں جن کا پر میشر ایسا کمزور اور صفت جو دو ستا سے محروم ہے۔ منہ ل الفاتحة : ۲ تا ۷