چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 208

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۸ چشمه معرفت آریوں کو باغیانہ حرکت کا مرتکب کیا۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ بعض وحشی مسلمان جو تعلیم قرآنی سے بالکل بے خبر ہیں باوجود رعیت کہلانے کے باغیانہ حرکت کر بیٹھتے ہیں مگر ہم ایک تعلیم یافتہ قوم کو جاہلوں کے ساتھ برابر نہیں کر سکتے۔ جاہلوں کی نسبت یہ مقولہ امیر عبدالرحمن خان کا بہت صحیح ہے کہ افغان بر نصف قرآن عمل میکنند ۔ قرآن شریف میں صاف اور صریح طور پر فرمایا گیا ہے کہ عادل بادشاہوں کی فرمانبرداری کرو اور بغاوت سے پر ہیز کرو۔ اور جس بادشاہ یا جس کسی سے احسان دیکھو اس کا شکر کرو اور سب سے بھلائی کرو مگر وید کی ہدایت اس کے برخلاف ہے اگر چاہو تو ستیارتھ پر کاش میں دیکھ لو۔ اس نشانی کا دوسرا فقرہ مضمون پڑھنے والے نے یہ لکھا ہے کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ والدین اور اولاد کے سب حقوق انصاف سے اُس میں درج ہوں ۔ سبحان اللہ ان لوگوں کی حالت تعصب کی وجہ سے کہاں تک پہنچ گئی ہے کہ محض اس غرض سے الہامی کتاب کی نشانیاں اپنی طرف سے تراشتے ہیں کہ تا قرآن شریف پر کوئی زد پیدا ہو جائے مگر خدا کی کلام پر کیونکر زد پیدا ہو اس لئے اُن کی وہ زد الٹ کر وید ہی پر پڑتی ہے۔ قرآن شریف نے جس قدر والدین اور اولا د اور دیگر اقارب اور مساکین کے حقوق بیان کئے ہیں۔ میں نہیں خیال کرتا کہ وہ حقوق کسی اور کتاب میں لکھے گئے ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَ بِذِي الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيْلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ إنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا - الجزء نمبر ۵ سورۃ النساء ۔ ( ترجمہ ) تم خدا کی پرستش کرو اور اس کے ساتھ کسی کو مت شریک ٹھیراؤ اور اپنے ماں باپ سے احسان کرو اور اُن سے بھی احسان کرو جو تمہارے قرابتی ہیں (اس فقرہ میں اولاد اور بھائی اور قریب اور دور کے تمام رشتہ دار آگئے ) اور پھر فرمایا کہ تیموں کے ساتھ بھی احسان کرو اور مسکینوں کے ساتھ بھی اور جو ایسے ہمسایہ ہوں جو قرابت والے بھی ہوں اور ایسے ہمسایہ ہوں جو محض اجنبی ہوں اور ایسے ا النساء : ۳۷ ۲۰۰