چشمہٴ معرفت — Page 205
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۵ چشمه معرفت کی قوت بھی خود بخود ہوگی۔ اس صورت میں اُن کو ادراک مجہولات کے لئے پر میشر کی کچھ بھی حاجت نہ رہی اور اس سے ماننا پڑے گا کہ جیسا کہ روحیں قدیم سے خود بخود ہیں ایسا ہی علوم ضرور یہ کے تمام دروازے بھی قدیم سے اُن پر کھلے پڑے ہیں۔ پس اس صورت میں پر میشر کی کچھ بھی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر یہ کہو کہ روحیں تو خود بخود ہیں مگر اُن کے صفات خود بخود نہیں تو یہ خیال خود غلط ہے کیونکہ کسی چیز کا تحقق وجود بغیر تحقق صفات کے ممکن نہیں غرض اس عقیدہ سے پر میشر سر چشمہ فیوض نہ رہا۔ اور اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہو گیا اور نیز اُس کے وجود پر کوئی دلیل نہیں (۱۹۷) رہی جس سے سمجھا جائے کہ وہ موجود بھی ہے اور نیز اس عقیدہ سے پر میشر تمام تعریفوں کا مستحق نہ رہا کیونکہ جب روحیں مع اپنی طاقتوں کے اور ایسا ہی ذرات اجسام مع اپنی طاقتوں کے قدیم سے خود بخود ہیں اور پر میشر کا اُن میں دخل نہیں تو پھر پر میشر تمام تعریفوں کا کیونکر مستحق ہوسکتا ہے؟ اور جن اپنی قدیم قوتوں کے ذریعہ سے کوئی شخص اعمال بجالاتا ہے اُن اعمال کی بجا آوری میں بھی پر میشر کا کچھ دخل قرار نہیں پاسکتا کیونکہ پر میشر کے فیض کا اُن میں ایک ذرہ دخل نہیں اور یہ خود آریوں کے نزدیک مسلم امر ہے کہ پر میشر اپنی طرف سے عطیہ کے طور پر کچھ نہیں دے سکتا بلکہ سب کچھ جو انسان کو ملتا ہے وہ محض اعمال کا نتیجہ ہے پس کسی آریہ کو یہ توفیق نہیں مل سکتی کہ وہ الحمد للہ کہہ سکے یعنی یہ کہ تمام محامد اور تمام تعریفیں خدا سے خاص ہیں کیونکہ اُن کے نزدیک جیسا کہ پر میشر میں خوبیاں ہیں ایسا ہی روحوں اور ذرات اجسام میں بھی خوبیاں ہیں کیونکہ وہ پر میشر کی طرح قدیم سے خود بخود ہیں اور جن طاقتوں کو وہ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ بھی پر میشر کی طاقتوں اور صفات کی طرح خود بخود ہیں اور انسان محض اپنی ذاتی طاقت سے اچھے اعمال بجالاتا ہے نہ پر میشر کی کسی مدد سے کیونکہ اول تو پر میشر کو مدد دینے کے لئے قدم رکھنے کی جگہ نہیں کیونکہ پر میشر کی مدد کی ضرورت ہی نہیں خود بخود سب کچھ حاصل ہے۔ ماسوا اس کے اگر وہ انسانوں کو نیک اعمال کے بجالانے پر کچھ مدد دے تو اس سے آریہ سماج کا اصول ٹوٹتا ہے اور وہ یہ کہ پر میشر بغیر عوض اعمال کے کچھ