چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 204

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۲۰۴ چشمه معرفت اپنے مطلب کے موافق بنا کر پیش کر دینا یہ تو اُن لوگوں کا کام ہے جو سخت شریر اور بدمعاش اور گنڈے کہلاتے ہیں۔ خدا تو قرآن شریف میں یہ فرماتا ہے أَذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ لا یعنی جن مسلمانوں پر ناحق قتل کرنے کے لئے چڑھائی کی جاتی ہے خدا نے دیکھا کہ وہ مظلوم ہیں اس لئے خدا بھی اُن کو مقابلہ کرنے کے لئے اجازت دیتا ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک نشانی الہامی کتاب کی یہ بیان کی کہ پیدائش اور فنا کے بارہ میں اس میں صحیح صحیح حالات درج ہوں۔ واضح ہو کہ اس نشانی کی حقیقت بیان کرنے کے بارے میں ہم چنداں ضرورت نہیں دیکھتے کیونکہ پہلے بھی وضاحت کے ساتھ ہم لکھ چکے ہیں کہ ان دونوں نشانیوں میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے۔ کیونکہ بموجب قول آریہ سماج کے وید کی یہ تعلیم ہے کہ ارواح اور ذرات اجسام انادی اور غیر مخلوق اور قدیم سے پر میشر کی طرح خود بخود ہیں اور اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں بھی خود بخود ہیں۔ اور انسان کے مرنے کے وقت میں اُس کی روح آسمان کی فضا میں چلی جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح رات کے وقت کسی گھاس پات پر پڑتی ہے اور وہ گھاس کوئی کھا لیتا ہے اور اس طرح پر نطفہ کے اندر ہو کر وہ روح کسی عورت کے پیٹ میں چلی جاتی ہے۔ یہ ہے وید کی فلاسفی جو پیدائش اور فنا کے متعلق ہے اور ہم اسی رسالہ میں ثابت کر چکے ہیں کہ یہ ایسا بد یہی البطلان عقیدہ ہے کہ ایک بچہ بھی اُس پر ہنسے گا۔ اگر روحیں خود بخود ہیں اور اُن کی طاقتیں خود بخود ہیں تو پھر پر میشر پر میشر نہیں رہ سکتا اور نہ پرستش کرانے کے لئے اس کا کوئی حق ٹھہرتا ہے اور اس کا روحوں پر حکومت کرنا صرف قبضہ جابرانہ ہوگا اور ہم کوئی دوسرا نام اس قبضہ کا نہیں رکھ سکتے ۔ ایسا ہی اس عقیدہ سے اس کی توحید تمام درہم برہم ہو جاتی ہے اور قدامت میں ذرہ ذرہ اُس کے وجود کے ساتھ برابر ہو جاتا ہے۔ اور نیز بڑی خرابی یہ ہے کہ اس صورت میں وہ منبع فیوض نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ جب کہ روحیں خود بخود ہیں اور اُن کی طاقتیں خود بخود ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ اُن کے ادراک مجہولات الحج: ۴۰