چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 198

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۸ چشمه معرفت کچھ انسان کو کوئی بہتری اور خیر اور فیض پہنچتا ہے وہ تمام اُس کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ جو کچھ وید کے رشیوں پر الہام ہوا ہے وہ پر میشر کا کچھ بھی احسان اور فیضان نہیں بلکہ خودان رشیوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ پس یہ عجیب پر میشر ہے کہ نہ روحوں کو اُس نے پیدا کیا اور نہ اُن کو کوئی فیض پہنچا سکتا ہے اور پھر یہ بھی دعوی ہے کہ وہ تمام فیوض کا منبع ہے ۔ کیا یہ صریح تناقض اور اختلاف بیانی دید میں موجود ہے یا نہیں؟ ایسا ہی وید کی طرف سے یہ دعوئی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ تو حید کی دعوت کرتا ہے حالانکہ دوسری طرف دید کا یہ بھی دعوی ہے کہ خدا اپنی ازلیت و ابدیت میں واحد نہیں بلکہ ذرہ ذرہ اس عالم کا اور نیز تمام روحیں ازلیت و ابدیت میں اُس کی شریک ہیں اور نیز ایک طرف تو وید کی طرف تو حید کو منسوب کیا جاتا ہے اور دوسری طرف کھلے کھلے طور پر وہ مخلوق پرستی کی تعلیم دیتا ہے اور اگنی وایو وغیرہ کی پرستش سے ساراوید بھرا پڑا ہے۔ پس جس حالت میں وید کی اختلاف بیانی اور تناقض کا یہ حال ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وید نے اس شرط کو پورا نہیں کیا اور نہ اس نے ایسا دعویٰ کیا کہ اس میں اختلاف بیان نہیں لیکن قرآن شریف یہ دعویٰ کرتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا لے یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جاتا۔ اور ظاہر ہے کہ جس زمانہ میں قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ اس میں اختلاف نہیں تو اس زمانہ کے لوگوں کا حق تھا کہ اگر اُن کے نزدیک کوئی اختلاف تھا تو وہ پیش کرتے مگر سب ساکت ہو گئے اور کسی نے دم نہ مارا۔ اور اختلاف کیونکر اور کہاں سے ممکن ہے جس حالت میں تمام احکام ایک ہی مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں یعنی علمی اور عملی رنگ میں اور درشتی اور نرمی کے پیرا یہ میں خدا کی تو حید پر قائم کرنا اور ہوا و ہوس چھوڑا کر خدا کی توحید کی طرف کھینچنا یہی قرآن کا مدعا ہے۔ مضمون پڑھنے والے نے ایک اور نشانی الہامی کتاب کی یہ پیش کی کہ اس میں کسی کی النساء : ۸۳