چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 197 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 197

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۹۷ چشمه معرفت میں بھی کوئی تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ مکان الگ الگ ہیں اور یہ کہنا کہ زید کو میں دو روپیہ اجرت دوں گا بشرطیکہ وہ سارا دن میرا کام کرے اور یہ کہنا کہ زید کو میں صرف آٹھ آنہ اجرت دوں گا بشرطیکہ وہ صرف ایک پہر میرا کام کرے۔ ان دونوں فقروں میں بھی کوئی تناقض اور اختلاف نہیں کیونکہ شرطیں علیحدہ علیحدہ ہیں۔ غرض جب تک ان تمام امور متذکرہ بالا میں وحدت نہ پائی جائے اور ہر ایک قسم کی زمانی مکانی وغیرہ تفریق سے دو بیان خالی نہ ہوں تب تک نہیں کہا جائے گا کہ وہ دو بیان متناقض ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس تناقض سے وید بھرا ہوا ہے جیسا کہ ایک طرف تو دید خدا تعالیٰ (۱۸۹) کو قادر مطلق مانتا ہے اور اُس کو سرب شکتی مان جانتا ہے اور دوسری طرف اس کی قدرت کے تمام کاموں سے انکاری ہے اس کے خالق ارواح اور اجسام ہونے سے منکر ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ وہ کھلے کھلے طور پر یہ عقیدہ سکھلاتا ہے کہ کیا ارواح اور کیا اُن کی تمام طاقتیں اور قوتیں اور اُن کے عجیب خواص سب خود بخود ہیں اور پر میشر نے اُن کو پیدا نہیں کیا ایسا ہی اجسام کے ذرات اور اُن کی تمام طاقتیں اور قو تیں خود بخود ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ یہ کس قدر تناقض ہے کہ ایک طرف تو پر میشر کی کامل قدرت کو ماننا اور دوسری طرف سرے سے تمام قدرتی کاموں سے اُس کو جواب دے دینا؟ ایسا ہی ایک طرف تو ویداقراری ہے کہ پر میشر تمام فیضوں کا منبع اور سر چشمہ ہے اور دوسری طرف قطعاً اس بات سے انکاری ہے کہ کوئی فیض پر میٹر کا جاری ہے کیونکہ جس حالت میں روحوں کی تمام طاقتیں اور قوتیں اور اجسام کی تمام طاقتیں اور قوتیں قدیم سے خود بخود ہیں اور انہیں طاقتوں کے ذریعہ سے وہ علوم و فنون حاصل کرتی ہیں ۔ تو کیا اس سے ثابت نہ ہوا کہ پر میشر کا اُن پر ذرہ فیض نہیں ؟ اور اگر کہو کہ اگر چہ وہ قو تیں تو خود بخود ہیں لیکن علوم اور معارف کا فیض تو پر میشر کی طرف سے ہوتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ بموجب اصول آریہ سماج کے پر میشر اپنی طرف سے کوئی نیکی اور خیر اور فیض انسان کو نہیں پہنچا سکتا اور جو