چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 180 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 180

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۸۰ چشمه معرفت مدت تک ہے ) بعد اس کے پر ماتما کی نیا کے مطابق پھر جسم انسانی لینا پڑتا ہے محدود کرموں کا بے حد پھل نہیں ( کرم تو محدود ہیں مگر وفادار پرستار کی نیت محدود نہیں ہوتی اور نیز کرم کا محدود ہونا اُس کی مرضی سے نہیں ) میں ویدوں کی ان سب تعلیموں کو دلی یقین سے مانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔ اور میں یہ بھی مانتا ہوں کہ پر میشر گنا ہوں کو بالکل نہیں بخشا۔ ( عجیب پر میشر ہے میرا کسی شفاعت یا سفارش پر بھروسہ نہیں ( یعنی کسی کی دعا کسی کے حق میں قبول بقیہ حاشیہ: کراتی ہے اور اس طرح پر اس عورت کا خاوند اس بچہ کا پتا بن جاتا جو نیوگ کے ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے پس اگر پر میشر آریوں کا ایسا ہی پتا ہے تب تو ہمیں کلام کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اگر اس طرح کا پتا ہے کہ ارواح اور ذرات عالم معہ اپنی تمام قوتوں کے اس کے ہاتھ سے نکلے ہیں اور اسی سے وجود پذیر ہیں تو یہ بات آریوں کے اصول کے برخلاف ہے اگر پوچھو کہ کیوں ان کے اصول کے برخلاف ۱۷۲ ہے؟ تو واضح ہو کہ آریوں کے اصول کے مطابق تمام ارواح پر میشر کی قدیمی شریک ہیں جو اس سے وجود ۔ پذیر نہیں ہو ئیں تو پھر ہم پر میشر کو ان کا پتا کیونکر کہہ سکتے ہیں وہ تو خود بخود ہیں جیسے کہ پر میشر خود بخود دیگر یہ اصول غلط ہے ۔ معرفت کی آنکھ سے دیکھنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ جیسا باپ میں قو تیں اور خاصیتیں اور خصلتیں ہوتی ہیں ویسی ہی بیٹے میں بھی ہوتی ہیں۔ پس اسی طرح چونکہ ارواح خدا تعالی کے ہاتھ سے نکلی ہیں ان میں ظلمی طور پر وہ رنگ پایا جاتا ہے جو خدا کی ذات میں موجود ہے اور جیسے جیسے خدا کے بندے اس کی محبت اور پرستش کے ذریعہ سے صفوت اور پاکیزگی میں ترقی کرتے ہیں وہ رنگ ظاہر ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ فلی طور پر ایسے انسانوں میں خدا کے انوار ظاہر ہونے شروع ہو جاتے ہیں ۔ صاف طور پر ہمیں دکھائی دیتا ہے کہ انسانی فطرت میں خدا کے پاک اخلاق مخفی ہوتے ہیں جو تزکیہ نفس سے ظاہر ہو جاتے ہیں مثلاً خدا رحیم ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد رحم کی صفت سے حصہ لیتا ہے ۔ خدا جواد ہے ایسا ہی انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد جود کی صفت سے حصہ لیتا ہے ایسا ہی خدا ستار ہے خدا کریم ہے خدا غفور ہے اور انسان بھی تزکیہ نفس کے بعد ان تمام صفات سے حصہ لیتا ہے پس کس نے یہ صفات فاضلہ انسان کے روح میں رکھ دئے ہیں۔ اگر خدا نے رکھے ہیں تو اس سے ثابت ہے کہ وہ ارواح کا خالق ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ خود بخود ہیں تو اس کا جواب یہی کافی ہے کہ لعنة الله على الكاذبين - منه