چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 179

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۹ چشمه معرفت ایک ہی کرتار ہے دوسرا کوئی نہیں ۔ میں پر میشر کی طرح تمام دنیا کا مالک یا صانع نہیں (121) ہوں اور نہ سرب بیا پک ہوں اور نہ انتریا می بلکہ اس مہان شکتی مان کا ایک ادنی سیوک ہوں مگر اُس کے گیان اور شکتی میں ہمیشہ سے ہوں معدوم کبھی نہیں ہوا اور نہ کوئی عدم خانہ کہیں ہے بلکہ کسی چیز کو عدم نہیں اس لئے وید کی اس انصافانہ تعلیم کو بھی میں تسلیم کرتا ہوں کہ مکتی یعنی نجات کرموں کے مطابق مہما کلب تک ملتی ہے ( یعنی دائگی نجات نہیں صرف ایک مقررہ (۱۷۲) بقیہ حاشیہ سے جوڑنا اس کو پر میشر بننے کا حق نہیں بخش دے گا بلکہ اس صورت میں تو وہ اس نانبائی کی طرح ہے جس نے آٹا بازار سے لیا اور لکڑی کسی لکڑی فروش سے اور آگ ہمسایہ سے اور پھر روٹی پکائی اور اس صورت میں پر میشر کے وجود پر کوئی بھی ثبوت نہیں کیونکہ اگر ارواح مع اپنی تمام قوتوں کے قدیم سے خود بخود ہیں تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ ارواح اور پر مانوؤں کا اتصال اور انفصال بھی قدیم سے اے کے خود بخود نہیں جیسا کہ دہریوں کا خیال ہے اس لئے آریہ سماج والے اپنے پر میٹر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے اور نہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے ۔ یہ ہے خلاصہ وید کے گیان کا جس پر فخر کیا جاتا ہے ۔ یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دو قسم کے دلائل قائم ہو سکتے ہیں اول اس حالت میں دلیل قائم ہوتی ہے کہ جب اس کی ذات کو سر چشمہ تمام فیوض کا مان لیا جائے اور اسی کو ہر ایک ہستی کا پیدا کنند و تسلیم کر لیا جاوے تو اس صورت میں خواہ ذرات عالم پر نظر کریں یا ارواح پر یا اجسام پر ضروری طور پر مانا پڑے گا کہ ان تمام مصنوعات کا ایک صانع ہے۔ دوسرا طریق خدا تعالیٰ کی شناخت کا اس کے تازہ بتازہ نشانات ہیں جو انبیاء اور اولیاء کی معرفت ظاہر ہوتے ہیں ۔ سو آریہ سماج والے ان سے بھی منکر ہیں اس لئے ان کے پاس اپنے پر میشر کے وجود پر کوئی بھی دلیل نہیں ۔ عجیب بات ہے کہ آریہ لوگ یوں تو بات بات میں اپنے پر میشر کو پتا پتا کر کے پکارتے ہیں جیسا کہ ابھی لیکھرام نے اپنے مضمون مباہلہ میں لکھا ہے مگر معلوم نہیں وہ کس طور کا پتا ہے ۔ کیا اس طور کا پتا جیسا کہ ایک منبثی ایک اجنبی شخص کو اپنا باپ کہہ دیتا ہے یا ایسا پتا جو نیوگ کے ذریعہ سے فرضی طور پر بنایا جاتا ہے اور ایک آریہ کی عورت اپنی پاک دامنی کو خاک میں ملا کر دوسرے سے اپنا منہ کالا