چشمہٴ معرفت — Page 181
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۸۱ چشمه معرفت نہیں ہوتی ) میں خدا کو راشی یا ظالم نہیں جانتا ( لفظ مرتشی ہے جس کے معنے ہیں رشوت لینے والا ۔ راشی لفظ نہیں ہے لیکھرام کی علمیت کا یہ نمونہ ہے کہ بجائے مرتشی کے راشی لکھتا ہے ) اور میں دید کی رو سے اس بات پر کامل وصحیح یقین رکھتا ہوں کہ چاروں وید ضر ور ایشر کا گیان ہے ان میں ﴿۱۷۳ ذرا بھی غلطی یا جھوٹ یا کوئی قصہ کہانی نہیں۔ ان کو ہمیشہ ہر نئی دنیا میں پر ماتما جگت کی ہدایت عام کے لئے پر کاش کرتا ہے اس سرشٹی کے آغاز میں جب انسانی خلقت شروع ہوئی پر ماتما نے ویدوں کو شری آگئی ۔ شری والیو۔ شرقی آدت - شرقی انمرہ جیو چار رشیوں کے آتماؤں میں الہام کیا مگر جبرئیل یا کسی اور چٹھی رسان کی معرفت نہیں بلکہ خود ہی کیونکہ وہ آسمان یا عرش پر نہیں بلکہ حاشیہ جسمانی نظام پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہوا کے ذریعہ سے سنتا ہے اور سورج کے ذریعہ سے دیکھتا ہے پھر جسمانی نظام میں یہ دو چٹھی رساں کیوں مقرر کئے گئے حالانکہ خدا کا جسمانی روحانی قانون با ہم مطابق ہونا چاہیے افسوس وید کا گیان ہر جگہ پر صحیفہ قدرت کے مخالف پڑا ہوا ہے اور کون کہتا ہے کہ خدا ہر جگہ نہیں بلکہ وہ ہر جگہ بھی ہے اور ذو العرش بھی ہے نادان اس معرفت کے نکتہ کو نہیں سمجھتا۔ یہ بات سوچنے کے لائق ہے کہ اگر چہ اس عالم میں سب کچھ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے مگر پھر بھی اس نے اپنے قضا و قدر کے نافذ کرنے کے وسائکا رکھے ہیں۔ مثلاً ایک زہر جو انسان کو ہلاک کرتی ہے اور ایک تریاق جو فائدہ بخشتا ہے کیا ہم گمان کر سکتے ہیں کہ یہ دونوں خود بخود انسان کے بدن میں تاخیر کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ وہ خدا کے حکم سے تاثیر مخالف یا موافق کرتے ہیں پس وہ بھی خدا کے ایک قسم کے فرشتے ہیں بلکہ ذرہ ذرہ عالم کا جس سے انواع و اقسام کے تغیرات ہوتے رہتے ہیں یہ سب خدا کے فرشتے ہیں اور توحید پوری نہیں ہوتی جب تک ہم ذرہ ذرہ کو خدا کے فرشتے مان نہ لیں کیونکہ اگر ہم تمام مؤثرات کو جو دنیا میں پائی جاتی ہیں خدا کے فرشتے تعلیم نہ کر لیں تو پھر ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ یہ تمام تغییرات انسانی جسم اور تمام عالم میں بغیر خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ اور مرضی کے خود بخود ہورہے ہیں اور اس صورت میں خدا تعالی کو محض معطل اور بے خبر مانا پڑے گا ۔ پس فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے توحید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تاثیر کو خدا تعالی کے ارادہ سے باہر مانا پڑتا ہے اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلم ہے تو پھر جبرئیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے ؟ منہ