چشمہٴ معرفت — Page 169
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۹ چشمه معرفت نے ہمیں سکھایا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ انسان سے پہلے کیا کیا خدانے بنایا مگر اس قدر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہو گئے اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے مگر قدامت شخصی ضروری نہیں۔ آریوں کی بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ خدا کی بے انتہا قدرتوں اور بے انتہا اسرار کو اپنے (۱۶۱) نہایت محدود علم کے پیمانہ سے ناپتے ہیں اور جو باتیں انسان کے لئے غیر ممکن ہیں وہ خدا کے نزدیک بھی غیر ممکن ٹھہراتے ہیں۔ اسی بنا پر اُن کا اعتراض ہے کہ روحیں کہاں سے پیدا ہوئیں اور مادہ کہاں سے پیدا ہوا۔ تعجب کہ وہ پہلے کیوں اس سوال کو حل نہیں کرتے کہ خدا کہاں سے اور کس طرح پیدا ہوا۔ جب کہ اس بات کو ماننا پڑتا ہے کہ خدا کی قدرتیں نا پیدا کنار ہیں اور اس کے اسرار وراء الوراء ہیں اور ہمارے مشاہدات اس کے گواہ ہیں تو پھر یہ بیہودہ منطق خدا تعالیٰ کی قدرت کی نسبت کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ جس حالت میں دنیا کے لوگ بھی اپنی عجیب در عجیب ایجادوں کے ساتھ لوگوں کو حیران کر دیتے ہیں اور ایسے عمیق اسرار سائنس کے نکلتے آتے ہیں کہ ہزاروں فلاسفر اس زمانہ سے پہلے ایسے گذر گئے ہیں کہ ان خواص کو از قبیل محالات سمجھتے تھے تو پھر خدا تعالیٰ کے عمیق اسرار پر کیوں اعتراض کئے جاتے ہیں؟ جو کچھ ہمارے مشاہدہ میں ہر روز آتا ہے کیا ہم اپنے عقلی ہتھیاروں کے ذریعہ سے اس کی تہ تک پہنچ سکتے ہیں ؟ زمین میں مثلاً ایک کنک کا دانہ بویا جاتا ہے پھر اس میں سے سبزہ نکلتا ہے اور ٹہنیاں پیدا ہوتی ہیں اور خوشہ لگتا ہے اور ایک انہ سے کئی دانے ہو جاتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ اتنی چیزیں صرف ایک دانہ سے کیونکر پیدا ہو جاتی ہیں اگر صرف ہست سے ہست مانا جائے تو ایک دانہ کے عوض میں صرف بقدر ایک دانہ پیدا ہونا چاہیے باقی سب نیست سے ہست قبول کرنے پڑتے ہیں۔ ایسا ہی اگر آم کا ایک پھل حملا ہم نے ہمیشہ کے لئے اس لئے شرط لگادی ہے کہ خدا کی صفات میں سے ایک وحدت بھی ہے کیونکہ اس کی ذات کے لئے کسی دوسری چیز کا وجود ضروری نہیں اس لئے وہ بھی زمانہ آئے گا کہ خدا کل نقش موجودات کا مٹادے گا تا اپنی وحدت کی صفت کو ثابت کرے اور ایسا ہی پہلے بھی زمانہ آچکا ہے۔ منہ