چشمہٴ معرفت — Page 170
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۷۰ چشمه معرفت زمین میں بویا جاوے تو اس سے ایک بڑا درخت آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے اور بہت سی شاخیں نکالتا ہے اور پھول لاتا ہے اور آخر ہزاروں آم اس پر لگتے ہیں کیا کوئی سمجھ سکتا ہے کہ یہ کیا ماجرا ہے آم جو بویا گیا وہ تو صرف ایک تھا پس یہ انبار لکڑیوں اور پتوں اور پھولوں کا کہاں سے پیدا ہو گیا۔ کیا اگر یہ نیستی سے ہستی نہیں تو اور کیا ہے؟ پس سچ تو یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ اناج اور پھلوں کے پیدا کرنے (۱۷۲) میں نیستی سے ہستی نہ کرتا اور ایک دانہ کے عوض میں صرف ایک دانہ پیدا ہوتا تو تھوڑے ہی دنوں میں سب لوگ مرجاتے ۔ عقلی طور پر تو صرف یہ مانا پڑتا ہے کہ ایک دانہ کی جگہ صرف ایک ہی دانہ پیدا ہو باقی جو کچھ خدا تعالیٰ پیدا کر کے دکھاتا ہے وہ سب عقل سے برتر اور نیستی سے ہستی ہے مگر افسوس ان کا فر نعمت لوگوں پر جو ہمیشہ نیتی سے ہستی دیکھتے ہیں اور وہی اناج اور پھل جو نیست سے ہست ہوتے ہیں ان کو کھا کر وہ زندہ رہتے ہیں لیکن پھر وہ سب کچھ دیکھ کر بھی خدا کی قدرتوں سے منکر ہو جاتے ہیں اور اعتراض شروع کر دیتے ہیں کہ خدا نیست سے کیونکر ہست کر دیتا ہے اور منہ سے کہتے ہیں کہ خدا سرب شکتی مان اور قادر ہے مگر دراصل وہ اُس کو قادر نہیں سمجھتے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جب تک خدا اپنی قدرتیں نہ دکھلاوے اس کا قادر ہونا کیوں کر ثابت ہو اور اگر انسانی قدرت کی حد تک ہی اُس کی قدرتیں ہوں تو اس میں اور انسان میں فرق کیا ہو؟ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ ایک جگہ مثال کے طور پر فرماتا ہے كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ل س بقره یعنی خدا کی راہ میں جو لوگ مال خرچ کرتے ہیں اُن کے مالوں میں خدا اس طرح برکت دیتا ہے کہ جیسے ایک دانہ جب بویا جاتا ہے تو گو وہ ایک ہی ہوتا ہے مگر خدا اس میں سے سات خوشے نکال سکتا ہے اور ہر ایک خوشہ میں سو دانے پیدا کر سکتا ہے یعنی اصل چیز سے زیادہ کر دینا یہ خدا کی قدرت میں داخل ہے اور در حقیقت ہم تمام لوگ خدا کی اسی قدرت سے ہی زندہ ہیں اور اگر خدا اپنی طرف سے کسی چیز کو زیادہ کرنے پر قادر نہ ہوتا تو تمام دنیا ہلاک ہو جاتی اور ایک جاندار بھی روئے زمین البقرة : ٢٦٢