چشمہٴ معرفت — Page 168
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۸ چشمه معرفت ایک حیات ہے ایسا ہی جسم کی طرح روح پر بھی تغیرات وارد ہوتے رہتے ہیں اور اس پر بھی ہر آن ایک موت اور ایک حیات ہے۔ صرف یہ فرق ہے کہ جسم کے تغیرات ظاہر اور کھلے کھلے ہیں مگر جیسا کہ روح مخفی ہے ایسا ہی اس کے تغیرات بھی مخفی ہیں اور روح کے تغیرات غیر متناہی ہیں جیسا کہ قرآن شریف سے ظاہر ہے کہ روح کے تغیرات غیر محدود ہیں یہاں تک کہ بہشت میں بھی (۱۲۰) وہ تغیرات ہوں گے مگر وہ تغیرات رو بہ ترقی ہوں گے اور روھیں اپنی روحانی صفات میں آگے سے آگے بڑھتی جائیں گی اور پہلی حالت سے دوسری حالت ایسی ڈور اور بلند تر ہو جائے گی گویا پہلی حالت به نسبت دوسری حالت کے موت کے مشابہ ہوگی۔ آریہ مذہب کے لوگ یہ بھی روحوں کے انادی ہونے پر ایک دلیل پیش کرتے ہیں کہ پر میشر قدیم ہے اور اس کی صفات بھی قدیم ہیں اور روحوں کے حادث ماننے سے پرمیشر کے صفات کا بھی حادث ہونا لازم آتا ہے اس لئے مانا پڑا کہ روحیں حادث نہیں ہیں مگر معلوم نہیں کہ یہ لوگ کس قدر جہالت میں غرق ہیں کہ منہ سے تو کچھ نکلتا ہے اور عقیدہ کچھ اور ہوتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جس حالت میں روحیں اُن کے نزدیک پر میشر کی پیدا کردہ نہیں اور قدیم سے خود بخود اور پر میشر کی طرح از لی اور انادی ہیں اور پر میشر کا ہاتھ اُن کو چھو بھی نہیں گیا تو پھر پر میشر کی صفات سے اُن کو کیا تعلق ہے اور اُن کو قدیم ماننے سے پر میشر کی کونسی صفت ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ پر میٹر سے بالکل بے تعلق ہیں ۔ ہاں یہ بات بیچ ہے کہ خدا کی صفات خالقیت راز قیت وغیرہ سب قدیم ہیں حادث نہیں ہیں ۔ پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم مانا پڑا تاہے نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے۔ سو اسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف حلا حاشیہ: بعض صفات باری کی نسبت اضافی حدوث مانا جاتا ہے جیسا کہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو خدا کا علم جو واقع کے مطابق ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ پیٹ میں ہے اور جب بچہ پیدا ہو کر اپنی حالت میں ایک تغیر پیدا کرتا ہے تو خدا کے علم میں بھی وہ تغیر آجاتا ہے مگر با وصف اس کے خدا کی سب صفات قدیم ہیں۔ منہ