چشمہٴ معرفت — Page 159
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۹ چشمه معرفت بھی نہیں تھا بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے لئے کوئی ایسا مادہ نہیں تھا کہ انسان اپنی قوت سے اس (121) میں سے روح نکال سکتا اور اس کی پیدائش صرف اس طور سے ہے کہ محض الہی قوت اور حکمت اور قدرت کسی مادہ میں سے اس کو پیدا کر دیتی ہے اسی واسطے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے) پوچھا گیا کہ روح کیا چیز ہے تو خدا نے فرمایا کہ تو ان کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اس بارے میں آیت قرآنی یہ ہے کہ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبّى وَمَا أُوتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيْلًا یعنی یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ روح کیا چیز ہے اور کیوں کر پیدا ہوتی ہے ۔ اُن کو جواب دے کہ روح میرے رب کے امر سے پیدا ہوتی ہے یعنی وہ ایک راز قدرت ہے اور تم لوگ روح کے بارے میں کچھ علم نہیں رکھتے مگر تھوڑا سا یعنی صرف اس قدر کہ تم روح کو پیدا ہوتے دیکھ سکتے ہو اس سے زیادہ نہیں جیسا کہ ہم بچشم خود دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھ کے سامنے کسی مادہ میں سے کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ اور انسانی روح کے پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کا قانون قدرت یہ ہے کہ دو نطفوں کے ملنے کے بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے تو جیسے چند ادویہ کے ملنے سے اُس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پر پیدا نہیں ہوتی اسی طرح اُس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کا مجموعہ ہے ایک خاص جو ہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا ہے اور جب تجلی الہی کی ہوا محسن کے امر کے ساتھ اس پر چلتی ہے تو یکدفعہ وہ افروختہ ہو کر اپنی تاثیر اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلّی ربّی سے پیدا ہو جاتی ہے اسی کا نام روح ہے اور وہی کلمتہ اللہ ہے اور اس کو امر ربی سے اس لئے کہا جاتا ہے کہ جیسے ایک حاملہ عورت کی طبیعت مد ترہ بحکم قادر مطلق تمام اعضاء کو پیدا کرتی ہے اور عنکبوت کے جالے کی طرح قالب کو بناتی ہے اس روح میں اس طبیعت مد ترہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ روح محض خاص تجلی الہی سے پیدا بنی اسرائیل: ۸۶