چشمہٴ معرفت — Page 160
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۶۰ چشمه معرفت ہوتی ہے اور گو روح کا فاسفرس اُس مادہ سے ہی پیدا ہوتا ہے مگر وہ روحانی آگ جس کا نام روح (۱۵۲) ہے وہ بجر مس نسیم آسمانی کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ سچا علم ہے جو قرآن شریف نے ہمیں بتلایا ہے تمام فلاسفروں کی عقلیں اس علم تک پہنچنے سے بیکار ہیں اور وید بھی بید بے شمر کی طرح اس علم سے محروم رہاوہ قرآن شریف ہی ہے جو اس علم کو زمین پر لایا سو اس طور سے ہم کہتے ہیں کہ روح نیست سے ہست ہوتی ہے یا عدم سے وجود کا پیرا یہ پہنتی ہے۔ یہ نہیں ہم کہتے کہ عدم محض سے روح کی پیدائش ہوتی ہے کیونکہ تمام کارخانہ پیدائش سلسلہ حکمت اور علل معلولات سے وابستہ ہے۔ اور یہ کہنا کہ اگر روح مخلوق ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ فنا بھی ہو جائے تو اس کا جواب یہ ہے کہ روح بیشک فنا پذیر ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ جو چیز اپنی صفات کو چھوڑتی ہے اس حالت میں اس کو فانی کہا جاتا ہے اگر کسی دوا کی تاثیر بالکل باطل ہو جائے تو اس حالت میں ہم کہیں گے کہ وہ دوا مرگئی ایسا ہی روح میں یہ امر ثابت ہے کہ بعض حالات میں وہ اپنی صفات کو چھوڑ دیتی ہے بلکہ اس پر جسم سے بھی زیادہ تغیرات وارد ہوتے ہیں انہیں تغیرات کے وقت کہ جب وہ روح کو اُس کی صفات سے دور ڈال دیتے ہیں کہا جاتا ہے کہ روح مرگئی کیونکہ موت اسی بات کا نام ہے کہ ایک چیز اپنی لازمی صفات کو چھوڑ دیتی ہے تب کہا جاتا ہے کہ وہ چیز مرگئی اور یہی بھید ہے کہ خدا تعالی نے قرآن شریف میں فقط اُنہیں انسانی روحوں کو بعد مفارقت دنیا زندہ قرار دیا ہے جن میں وہ صفات موجود تھے جو اصل غرض اور علت غائی ان کی پیدائش کی تھی یعنی خدائے تعالیٰ کی کامل محبت اور اس کی کامل اطاعت جو انسانی روح کی جان ہے اور جب کوئی روح خدا تعالیٰ کی محبت سے پر ہو کر اور اس کی راہ میں قربان ہو کر دنیا سے جاتی ہے تو اُسی کو زندہ روح کہا جاتا ہے باقی سب مردہ روحیں ہوتی ہیں۔ غرض روح کا اپنی صفات سے الگ ہونا یہی اس کی موت ہے چنانچہ حالت خواب میں بھی جب جسم انسانی مرتا ہے تو روح بھی ساتھ ہی مرجاتی ہے یعنی اپنی صفات موجودہ کو جو بیداری کی حالت میں تھیں چھوڑ دیتی ہے اور ایک قسم کی موت اُس پر وارد ہو جاتی ہے کیونکہ خواب میں وہ صفات اس میں باقی نہیں رہتیں جو بیداری میں اُس کو حاصل ہوتی ہیں