چشمہٴ معرفت — Page 158
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۵۸ چشمه معرفت (۱۵۰) میں ایک کی بیاہتا بیوی دوسرے سے ہمبستر ہو جاتی ہے اس سے زیادہ تر وحشیانہ حالت کی اور کونسی نظیر ہو سکتی ہے مگر جب انسان میں شرم اور حیا نہیں رہتی تو وہ نا پا کی کو بھی ایک پاک طریق سمجھ لیتا ہے۔ اور دنیوی علوم کے ذکر کرنے کے وقت یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ یہ لوگ تاریخ کے نہایت کچے ہیں اور اسلامی زمانہ تک تو اُن کی تاریخ کا کچھ تھوڑا سا پتہ لگتا ہے مگر پھر جب اسلامی زمانہ سے اوپر چڑھیں تو ان کے تاریخی حالات میں تاریکی شروع ہو جاتی ہے اور پھر اگر ہزار برس تک آگے چلے جائیں تو ایسی تاریکی معلوم ہوتی ہے کہ بجز شاعروں کی گپ اور لاف و گزاف کے اور کسی صحیح تاریخ کا پتہ نہیں لگتا۔ اور یہ بات نہ صرف ہم کہتے ہیں بلکہ جس قدر دنیا کے عقل مندوں نے ان کے تاریخی حالات پر غور کی ہے سب کی بالا تفاق یہی رائے ہے۔ رہی یہ بات کہ وید روحانی علوم کا سر چشمہ ہے یہ حقیقت تو ہمیں اس دن سے معلوم ہے جب کہ ستیارتھ پر کاش میں ہم نے یہ پڑھا تھا کہ وید نے اپنا روحانی علم یہ ظاہر کیا ہے کہ روحیں بدنوں سے نکل کر پھر شبنم کی طرح کسی گھاس بات پر پڑتی ہیں۔ سو جس وید کے روحانی علموں کا یہ نمونہ ہے وہ کیوں نہ سر چشمہ علوم ہو عقلمند انسان تو ایک نقطہ سے تمام حالات معلوم کر سکتا ہے۔ روحوں کا مخلوق ہونا کروڑہا مشاہدات سے ثابت ہے مگر وید کہتا ہے کہ مخلوق نہیں اور خدا تعالی کی طرح وہ قدیم سے خود بخود ہیں پس ایک طرف تو دید اپنے پر میشر کو خالق ہونے سے جواب دیتا ہے اور دوسری طرف امر مشہود محسوس کا انکار کرتا ہے یہ اس کا فلسفہ ہے اور یہ روحانی علوم ہیں مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ روحیں انا دی اور غیر مخلوق نہیں اور دو نطفوں کی ایک خاص ترکیب سے وہ پیدا ہوتی ہیں اور یا دوسرے کیڑوں مکوڑوں میں ایک ہی مادہ سے پیدا ہو جاتی ہیں اور یہی سچ ہے کیونکہ مشاہدہ اس پر گواہی دیتا ہے جس کے ماننے کے بغیر چارہ نہیں اور امور محسوسہ مشہودہ سے انکار کرنا سراسر جہالت ہے اور جب ہم کہتے ہیں کہ روح نیست سے ہست ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اوّل وہ کچھ