چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 140

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۰ چشمه معرفت غرض اسی وجہ سے مضمون پڑھنے والے نے اس نشانی کا ذکر نہیں کیا کہ یہ وید کا بیان ایک غلط بیان ہے۔ غالباً اُس کو یہ بات سوجھ گئی ہے کہ اس نشانی کے پیش کرنے سے وید کا تمام تار و پود جھوٹ کا مجموعہ ثابت ہوگا اور نہ صرف جھوٹ بلکہ اس کی جہالت اور نا واقفیت بھی ثابت ہوگی کہ ایسا خدا کے قانون قدرت سے بے خبر ہے کہ روح کو شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر نازل کرتا ہے حالانکہ گھاس پات کے مادہ کے اندر خود کیڑے موجود ہیں اُن پر کون سی شبنم پڑی تھی۔ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ زمین کے سب نباتات جمادات حیوانات کیٹروں سے بھرے ہوئے ہیں اور زمینی مادہ کے سب کچھ اندر ہے اوپر سے کچھ نہیں آتا۔ کیا وید کے رشیوں کے معدہ اور دماغ اور دوسرے اعضاء میں کیڑے نہیں تھے ؟ اور مرد اور عورت کی منی بھی کیڑوں سے خالی نہیں۔ اور زمین پر یازمین کے نیچے کون سا ایسا مادہ ہے جو کیڑوں سے خالی ہے۔ آریوں کو خیال کرنا چاہیے تھا کہ کب اور کس راہ سے اُن پر شبنمی روح پڑ گئی ۔ آخر جھوٹ کی کوئی حد ہے لیکن وید تو جھوٹ بولنے میں حد سے بڑھ گیا اور اس نے خدا کے بدیہی اور محسوس و مشہود اور قدیم قانون قدرت کو ایسا اپنے ہاتھ سے پھینک دیا جیسا کہ کوئی ایک کاغذ کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دے۔ اور مضمون پڑھنے والے کو ایک اور نشانی الہامی کتاب کی پیش کرنی چاہیے تھی اور اُس کا پیش کرنا تو بہت ضروری تھا معلوم نہیں کہ اُس نے وہ نشانی کیوں پیش نہ کی شاید بھول گیا اور وہ نشانی نیوگ ہے یعنی یہ کہنا چاہئے تھا کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ وہ نیوگ کی تعلیم دے یعنی اس میں یہ تعلیم پائی جائے کہ جب کسی شخص کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو تو وہ اپنی پیاری بیوی کو دوسرے سے ہم بستر کرا دے اور جب تک لڑکا پیدا نہ ہو اسی طرح ہمیشہ غیر مردوں سے اپنی بیوی کی مٹی پلید کراتا رہے اور شاید یہ نشانی الہامی کتاب کی اس لئے اُس نے ذکر نہیں کی کہ اس کو محسوس ہو گیا کہ یہ د یو ٹی کی بات ہے