چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 139

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۹ چشمه معرفت جس میں یہ مذکور ہو کہ روح بدن سے نکل کر پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے (۱۳۱) اور دو ٹکڑے ہو کر مرد اور عورت کے اندر چلی جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس نشانی کا ذکر کرنے سے وہ اس وجہ سے ڈر گیا کہ اس سے وید کی پورے طور پر پردہ دری ہو جائے گی کیونکہ تمام دنیا جانتی ہے کہ وید نے یہ صریح صریح جھوٹ بولا ہے اور خدا کے مقرر ومعین قانون کے برخلاف بیان کیا ہے اور جھوٹ بھی ایسا کھلا کھلا جھوٹ کہ بدیہی اور مشہودہ محسوسہ امور کی مخالفت کی ہے۔ طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ زمین کی ہر ایک چیز میں ایک جاندار کیڑے کا مادہ موجود ہے یہاں تک کہ زنگ خوردہ لوہے میں بھی کیڑا پیدا ہو جاتا ہے اور عجیب تریہ کہ بعض پتھروں میں بھی کیڑا دیکھا گیا ہے اور ہر ایک قسم کے اناج اور ہر ایک قسم کے پھل جب بہت مدت تک رکھے جائیں تو ان میں بھی کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جب انسان موت کے بعد دفن کیا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ تمام بدن اُس کا کیڑوں سے بھر جاتا ہے اور سب سے عجیب تر یہ کہ ایک مشہور درخت ہے جس کو گولر کہتے ہیں اُس کا پھل جب تک سبز ہوتا ہے اس میں کوئی کیڑا نہیں ہوتا اور جیسے جیسے پکتا جاتا ہے اس کے مادہ میں سے کیڑے پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ اور جب اس پھل کو چیرا جائے تو وہ کیڑے پرواز بھی کر جاتے ہیں اور بعض وقت ایک انڈے میں جو مرغی اور بیخ وغیرہ کا ہو جب سڑ جائے تو بجائے ایک بچہ کے صدہا کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام امور دلالت کر رہے ہیں کہ یہ راز ہی اور ہے۔ یہ وہی راز ہے جس کی نسبت ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی مثلاً گولر کا ایک پھل چیر کر دیکھو اس میں کوئی کیٹر انہیں ہوتا اور ہندو مسلمان سب اس کو کھاتے ہیں اور پھر جب پک جاتا ہے تو وہی مادہ کیڑے بن جاتے ہیں۔ اب اس کو اگر نیستی سے ہستی نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ اسی طرح ہم نیستی سے ہستی مانتے ہیں۔ جس پر مشاہدہ گواہ ہے یہی قانون قدرت ہے۔ اس میں وید نے بڑی بھاری غلطی کھائی ہے جو ہرگز معافی کے لائق نہیں ۔ کیا ایسے وید کو ہم قانونِ قدرت کے مطابق کہہ سکتے ہیں؟