چشمہٴ معرفت — Page 141
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۱ چشمه معرفت اور بڑی بے غیرتی کا کام ہے کہ باوجود یکہ نکاح کا تعلق بدستور ہے اپنی بیوی کو دوسرے سے (۱۳۳) ہم بستر کراوے اور نہ صرف ایک دو دن کے لئے بلکہ ایک دراز مدت کے لئے غیروں کے بستر پر اُس کو لٹا تا ر ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وید کے چاروں رشی نیوگ کے پاک عمل کے ضرور کار بند ہوں گے ۔ اور شاید اُن کے پوتر ہونے کی یہی نشانی ہوگی تبھی تو انہوں نے دوسروں کو وہی تعلیم دی جس پر آپ کار بند تھے۔ مگر اس زمانہ کے اکثر ہندو دیکھے گئے ہیں کہ جب کہیں نیوگ کا ذکر آتا ہے تو مارے ندامت کے منہ چھپاتے ہیں یا بھاگنے لگتے ہیں۔ ایک کتاب میں میں نے پڑھا ہے کہ ایک بنگالی صاحب بڑے شوق سے آریہ سماج میں داخل ہوئے تھوڑے دنوں کے بعد ان کا کوئی پرانا دوست برہمو مذہب کا ان کی ملاقات کے لئے گیا اور آہستہ آہستہ بات چلا کر اُس نے نیوگ کا ذکر کر دیا وہ بیچارہ بنگالی آریوں کے پنجہ میں تو گرفتار تھا اس نے کہا کہ نیوگ کیا ہوتا ہے تب بر ہمو صاحب نے اس کی تفصیل سنا دی کہ آریوں کے لئے وید کا یہ حکم ہے کہ اگر نرینہ اولاد پیدا نہ ہو تو اپنی عورت کو بغیر اس کے جو طلاق دی جائے دوسرے سے ہمبستر کرادیں اور جب تک اولاد نہ ہو اسی طرح اپنی بیوی کا غیر مرد سے منہ کالا کراتے رہیں جب اس غریب بنگالی نے یہ بات سنی تو چونک اٹھا اور کہا کہ یہ آریہ سماج پر سراسر تہمت ہے بھلا ایسی بے حیائی اور ناپاکی کی تعلیم وید میں کیونکر ہو سکتی ہے ؟ اور وید کے چار رشی جو پوتر تھے ایسی گندی تعلیم کیوں کر دے سکتے تھے ؟ تب برہمو صاحب نے بہت ادب اور نرمی سے ستیارتھ پر کاش اور دید بھاش پنڈت دیا نند کا اپنی بغل میں سے نکال کر دونوں ان کی خدمت میں پیش کر دیئے اور نہایت ملائمت سے عرض کیا کہ آپ نیوگ کے بارہ میں یہ چند سطریں پڑھ لیں جب اُس بنگالی نے جو شریف اور غیرتمند تھا وہ مقام پڑھا جہاں پنڈت دیانند وید کی شرتیوں کے حوالہ سے یہ تعلیم دیتا ہے کہ اگر لڑ کا نہ ہو تو ضرور تم لوگ اپنی استریوں کو غیر لوگوں سے ہم بستر کراؤ اور اس طرح پر نرینہ اولاد حاصل کرو ورنہ تمہاری مکتی نہیں ہوگی یہ تعلیم پڑھتے