چشمہٴ معرفت — Page 138
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۸ چشمه معرفت ۱۳۰ جاتے ہیں گو اس راہ میں بکلی نیست و نابود ہو جائیں اور معمولی اور رسمی عقیدہ پر خوش نہ ہو کر یہ چاہتے ہیں کہ پورے اور کامل طور پر خدا تعالیٰ کی معرفت اُن کو حاصل ہو اور چمکتے ہوئے نشانوں کی روشنی کے ساتھ وہ خدا کو دیکھ لیں اور یہ بھوک اور پیاس بشدت اُن میں بڑھ جاتی ہے اور اس خواہش کے لئے وہ سب کچھ فدا کرتے ہیں اور موت کو بھی کچھ چیز نہیں سمجھتے۔ پس وہ خدا جوان کی اس حالت کو دیکھتا ہے اُن کا مطلوب اُن کو عطا کرتا ہے اور یہ کیوں کر ہو کہ اُس کی کامل معرفت ڈھونڈنے والے محروم رہ جائیں۔ اس لئے خدا کا قانون قدرت جو ایسے لوگوں کے لئے قدیم سے چلا آتا ہے یہی ہے کہ وہ اُن کی دستگیری فرماتا ہے اور خدا تعالی کے زبر دست نشان جو فوق العادت ہیں اُن کا یقین کامل کرنے کے لئے اُن پر ظاہر ہوتے ہیں یعنی وہ نشان جو خدا کی اس عادت کے برخلاف ہیں جو عام لوگوں کے لئے مقرر ہے اُن کو دکھائے جاتے ہیں۔ غرض خدا کا قانون قدرت ایک نہیں ہے جیسا کہ انسانی تعلقات بھی خدا کے ساتھ ایک درجہ پر نہیں ہیں انسان کے ہر ایک رنگ میں خدا بھی اُس کے ساتھ رنگ بدلتا ہے اُس کے اسرار بے پایاں ہیں جیسی جیسی کسی کی محبت بڑھتی ہے اور قوت اخلاص ترقی پکڑتی ہے ویسا ہی خدا بھی ایک نئے طور پر اُس سے معاملہ کرتا ہے۔ پس اُس سے زیادہ اندھا کون ہے جو مختلف قسم کے بندوں کے ساتھ ایک ہی قانون قدرت خدا تعالیٰ کا سمجھتا ہے اصل بات تو یہ ہے کہ چونکہ یہ لوگ دن رات دنیا کے مردار پر سرنگوں ہیں اور کچھ بھی خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں رکھتے اور محض قومی تعصب سے زبان چلا رہے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ کے اسرار کے بارے میں اُن کی حس مفقود ہے اور وید کی بد قسمتی ایک یہ بھی ہے کہ اُس کے حامی ایسے لوگ ہیں۔ غرض مضمون پڑھنے والے کی نشانیاں پیش کردہ جو الہامی کتاب کے لئے وہ ٹھیراتا ہے سب اسی قسم کی ہیں کہ جو کچھ اس کے عقیدہ میں داخل ہے وہی الہامی کتاب کی نشانی وہ ٹھیرا دیتا ہے مگر وہ اس بات کا ذکر کرنا بھول گیا کہ الہامی کتاب کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ