چشمہٴ معرفت — Page 137
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۷ چشمه معرفت وہ صحیح اور درست ہیں لیکن قبل اس کے ہم اس قدر تحریر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تمام نشانیاں (۱۲۹) الہامی کتاب کی اپنے عقیدہ کو پیش نظر رکھ کر اس نے لکھی ہیں مثلاً چونکہ بغیر کسی دلیل کے ہندوؤں کا یہ خیال ہے کہ وید ابتدائے آفرینش میں پر میشر کی طرف سے آیا ہے۔ پس مضمون پڑھنے والے نے اپنے مذہب کی فتح مد نظر رکھ کر الہامی کتاب کے لئے یہ ایک نشانی تھیرا دی کہ وہ ابتدائے آفرینش میں ہو۔ اور چونکہ اُس نے دیکھا کہ وید میں کوئی ذکر معجزات اور پیشگوئیوں کا نہیں اور صرف معمولی باتیں اس میں درج ہیں جو معمولی انسان سے ہوسکتی ہیں اور جو انبیاء علیہم السلام فوق العادت نشان دکھلایا کرتے ہیں اُن نشانیوں کا وید میں نام و نشان نہیں سو اُس نے وید کی حالت کو مد نظر رکھ کر یہ دوسری علامت الہامی کتاب کی ٹھیرادی کہ وہ قانون قدرت کے مخالف نہ ہو یعنی جو کچھ عام انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ معمولی رنگ میں اپنے افعال ظاہر کرتا ہے اس سے بڑھ کر اس کتاب میں کچھ نہ ہو گویا خدا کا قانون قدرت صرف اس حد تک ہے جو عام لوگوں کے ساتھ پایا جاتا ہے حالانکہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت دوقسم کے ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ اور قانون قدرت ہے اور خاصوں کے ساتھ اور قانون قدرت ہے چنانچہ آریہ می مضمون پڑھنے والا خود اس بات کا اقراری ہے کہ جو الہام چار رشیوں پر ہوا وہ دوسروں کو نہیں ہوسکتا گو کیسے ہی پاک اور پوتر ہو جائیں۔ پس اپنے اس عقیدہ کی رو سے وہ خود مانتا ہے کہ خدا کا ایک ہی رنگ کا قانون قدرت نہیں ہے اور فی الواقع سچی اور کامل معرفت کی رو سے یہی ثابت ہو گیا ہے کہ انسانوں کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایک قسم کا نہیں بلکہ جس درجہ پر انسان کی حالت ہے اُسی درجہ پر خدا کا قانون قدرت اس کی نسبت ہوتا ہے ۔ ایک وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ہر ایک قسم کی معصیت دلیری سے کر لیتے ہیں گویا اُن کے نزدیک خدا نہیں ہے اور ایک وہ لوگ ہیں کہ جو خدا کی اطاعت اور محبت میں مر ہی رہتے ہیں اور خدا کی رضا جوئی کے لئے آگے سے آگے قدم رکھتے