چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 136

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۶ چشمه معرفت ۱۳۸) کی محبت کا ایک سچا جوش دل میں پیدا کر دیتی ہے درحقیقت وہی خدا کی کتاب ہے کیونکہ جب ایک طبیب اندھوں کو آنکھیں بخشتا ہے اور بہروں کے کان کھولتا ہے اور فالج زدہ لوگوں کو اچھا کرتا ہے اور سخت بگڑے ہوئے مریض اُس کے ہاتھ سے شفا پاتے ہیں تو بس اسی ایک نشان سے ہم سمجھ جاتے ہیں کہ وہ در حقیقت حاذق طبیب ہے اور اس کے بعد اس کے حاذق طبیب ہونے میں کلام کرنا کسی عقلمند اور بھلے مانس کا کام نہیں ہوتا لیکن افسوس ! کہ اس شخص نے ان نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کی اور محض اپنے دعوے کو بطور نشانیوں کے پیش کر دیا ہے حالانکہ وہ صرف اس کے دعوے ہیں جن پر کوئی دلیل پیش نہیں کی اور وہ بھی بے تعلق اس لئے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ گو کتاب میں کسی قدر طول ہو مگر ہم انشاء اللہ اس کی پیش کردہ نشانیوں کو ایک ایک کر کے دکھلائیں گے کہ وہ کیسے بیہودہ دعوے اور باطل خیالات ہیں جو وید میں ہرگز نہیں پائے جاتے ۔ اگر یہ شخص ایک عام جلسہ میں خدا تعالیٰ کے پاک رسول اور پاک کتاب کی نسبت اس قدر تو ہین نہ کرتا اور اس قدر گالیاں نہ دیتا تو ہمیں کچھ ضرور نہ تھا کہ آریہ مذہب کی نسبت قلم اُٹھاتے کیونکہ دین اسلام کی خوبیاں بھی بیان کرنا ایک ایسا امر ہے کہ جس سے باطل مذہب رد ہو جاتے ہیں مگر اس شخص نے اپنی بد زبانی کو انتہا تک پہنچا دیا آخر ہمیں ضرورت پڑی کہ ایسے وحشیانہ دانتوں کو توڑا جائے اس شخص کو اس بات کے کہنے سے حیا نہیں آئی کہ وید کا نام مکمل کتاب رکھتا ہے حالانکہ وید کی رُو سے پر میشر کا ہی کچھ پتہ نہیں کہ ہے یا نہیں۔ بت پرستی کی اور عناصر پرستی کی جڑھ یہی دید ہے اس سے آریہ ورت میں یہ سب گند پھیلے ہیں اور ہم تو دس ہزار روپیہ کی جائیداد ایسے شخص کو جائیداد ایسے شخص کو دے سکتے ہیں کہ جو ویدا ہیں کہ جو وید کی رُو سے پرمیشر کا وجود ثابت کر کے دکھلا دے ورنہ خالی ویدوید کرنا سراسر جائے شرم !! اب ہم مضمون پڑھنے والے کی ان نشانیوں مقرر کردہ کی نسبت ذیل میں ایک مکمل بیان لکھیں گے جو اُس نے الہامی کتاب کی علامات مقرر کی ہیں تا معلوم ہو کہ کہاں تک