چشمہٴ معرفت — Page 135
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۵ چشمه معرفت واضح ہو کہ یہ تمام نشانیاں الہامی کتاب کی جو مضمون پڑھنے والے نے قرار دی ہیں وہ ۱۲۷ اس لئے قرار نہیں دیں کہ عقل اور انصاف کا مقتضی یہی ہے بلکہ وید کی نسبت جو کچھ ان کا خیال ہے وہی نشانیاں قرار دے دی ہیں اور پھر بعد اس کے قرآن شریف پر حملے کئے ہیں یہ شخص اپنے نہایت تعصب کی وجہ سے اس قدر دیوانہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا لیکھرام کا بھی دادا ہے۔ تعصب اور نادانی بھی کیا بلا ہے کہ دونوں مل کر ایک خود غرض شخص کو اندھا کر دیتی ہیں۔ دراصل الہامی کتاب کے لئے دو نشانیاں ہی کافی تھیں اور وہ یہ کہ (1) الہی طاقت اُس کے اندر موجود ہو (۲) جس غرض کے لئے آئی ہے اُس غرض کو اُس کی تعلیم پوری کر سکے یعنی انسان کو خدا تک پہنچنے کے لئے جو ضرورتیں ہیں اُن تمام ضرورتوں کا سامان اس میں موجود ہو اور ایسے کھلے کھلے دلائل ہوں جو یقین دلا سکیں کہ وہ خدا کی طرف سے ہے اور بڑی بات یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے خدا تعالیٰ کی ہستی کا اُن دلائل کے ساتھ پتہ دے جو انسانی طاقت سے باہر ہیں ۔ اور اُس کے اندر ایک ایسی طاقت ہو کہ وہ دور افتادہ انسانوں کو خدا تک پہنچا سکے اور ان کے اندرونی گندوں کو دور کر سکے اور اُن کو ایک پاک حالت بخش سکے اور صاف ظاہر ہے کہ بڑی اور اول علامت طبیب کی یہی ہے کہ وہ اکثر بیماروں کو اچھا کردے اور صحت زائلہ کو بحال کر کے دکھلاوے اور دور شدہ تندرستی کو دوبارہ قائم کر دے سوانبیاء علیہم السلام طبیب روحانی ہوتے ہیں اس لئے روحانی طور پر ان کے کامل طبیب ہونے کی یہی نشانی ہے کہ جو نسخہ وہ دیتے ہیں یعنی خدا کا کلام ۔ وہ ایسا تیر بہدف ہوتا ہے کہ جو شخص بغیر کسی اعراض صوری یا معنوی کے اس نسخہ کو استعمال کرے وہ شفا پا جاتا ہے اور گناہوں کی مرض دور ہو جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کی عظمت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کی محبت میں دل محو ہو جاتا ہے کیونکہ جس چیز کا نام عذاب رکھا گیا ہے وہ یہی تو عذاب ہے کہ انسان کا خدا سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ اپنی نفسانی خواہشوں سے تعلق شدید ہو جاتا ہے اور ان نفسانی خواہشوں کی ایسی پرستش کرتا ہے اور ایسے طور سے اُن کی طلب میں لگارہتا ہے کہ گویا وہی نفسانی خواہشیں اُس کا خدا ہے۔ پس جو کتاب ان سفلی آلائشوں کو دور کرتی ہے اور خدا تعالیٰ