چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 124

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۴ چشمه معرفت عورت کا بغیر اس کے کہ اُس پر شبنم کی طرح آسمان کی فضا سے روح گرے روح پیدا ہونے کی اپنے اندر استعدا در رکھتا ہے۔ پھر جب مرد اور عورت کا نطفہ باہم مل جاتا ہے تو وہ استعداد بہت قوی ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ استعداد بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ جب بچہ کا پورا قالب طیار ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ کی قدرت اور امر سے اُسی قالب میں سے روح پیدا ہو جاتی ہے یہ وہ واقعات ہیں جو مشہود اور محسوس ہیں۔ اسی کو ہم کہتے ہیں کہ نیستی سے ہستی ہوئی کیونکہ ہم روح کو جسم اور جسمانی نہیں کہہ سکتے اور یہ بھی ہم دیکھتے ہیں کہ روح اُسی مادہ میں سے پیدا ہوتی ہے جو بعد اجتماع دونوں نطفوں کے رحم مادر میں آہستہ آہستہ قالب کی صورت پیدا کرتا ہے اور اس مادہ کے لئے ضروری نہیں کہ ساگ پات کی کسی قسم پر روح شبنم کی طرح گرے اور اس سے روح کا نطفہ پیدا ہو بلکہ وہ مادہ گوشت سے بھی پیدا ہو سکتا ہے خواہ وہ گوشت بکرہ کا ہو یا مچھلی کا یا ایسی مٹی ہو جو زمین کی نہایت عمیق نہ کے نیچے ہوتی ہے جس سے مینڈ کیں وغیرہ کیڑے مکوڑے پیدا ہوتے ہیں۔ ہاں بلا شبہ یہ خدا کی قدرت کا ایک راز ہے کہ وہ جسم میں سے ایک ایسی چیز پیدا کرتا ہے کہ وہ نہ جسم ہے اور نہ جسمانی ۔ پس واقعات موجودہ مشہودہ محسوسہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آسمان سے روح نہیں گرتی بلکہ یہ ایک نئی روح ہوتی ہے جو ایک مرکب نطفہ میں سے بقدرت قادر پیدا ہو جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالی قرآن شریف میں فرماتا ہے ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبْرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِینَ یعنی جب رحم میں قالب انسانی تیار ہو جاتا ہے تو پھر ہم ایک نئی پیدائش سے اُس کو مکمل کرتے ہیں یعنی ہم اس مادہ کے اندر سے جس سے قالب تیار ہوا ہے روح پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر ایک اور جگہ یعنی سورۃ الدھر میں جو جز و انتیس میں ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ أَمْشَاجِ " یعنی ہم انسان کو ملے ہوئے نطفہ سے پیدا کرتے ہیں یعنی مرد اور عورت کے نطفہ سے ۔ پس جیسا کہ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمایا ہے۔ اسی طرح کروڑہا انسانوں کا مشاہدہ گواہ ہے کہ اسی طرز سے روح پیدا المؤمنون : ۱۵ الدهر : ٣