چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 123

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۳ چشمه معرفت کسی گھاس پات پر دوٹکڑے ہو کر گری ہو یعنی ایک ٹکڑہ اُس کا تو لا ہور میں گرا۔ دوسرا ٹکڑہ کلکتہ میں کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں روحانی اخلاق بچہ کے ماں اور باپ کے اخلاق میں مشترک ہوتے ہیں اور یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہو کر گری اور یہ امر باطل ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ روح کا شبنم کی طرح گرنا بھی باطل اور جھوٹ ہے ۔ واضح ہو کہ یہ ایک وید کا ایسا مسئلہ ہے جس سے تمام وید جھوٹا ٹھیرتا ہے کیونکہ موجودہ وید کا تمام مدار اواگون یعنی جونوں پر ہے اور اسی اواگون یعنی تناسخ کی رو سے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا کے تمام چرند پرند ۔ درند اور تمام کیڑے مکوڑے انسان ہی ہیں اور اسی آواگون کی رو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ جاودانی مکمتی غیر ممکن ہے اور اسی آواگون کی رو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کسی کی تو بہ قبول نہیں ہوتی اور گناہ نہیں بخشے جاتے ۔ اور اسی اواگون کی رو سے یہ بھی مانا پڑتا ہے کہ روحوں کو خدا نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ سب خدا کی طرح قدیم اور ا نا دی ہیں ۔ غرض تناسخ کا مسئلہ تمام وید کا خلاصہ ہے اور یہ ایسا ستون ہے جس کے سہارے سے تمام عقاید وید کے کھڑے ہیں اور اُس کے ٹوٹنے سے تمام اصول وید کے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تناسخ جو اصل جڑھ آواگون کی ہے صرف اسی بنا پر یہ قائم رہ سکتا ہے کہ جبکہ بقول دیا نند یہ بات ثابت ہو جائے کہ روح بدن سے نکل کر کاش میں چڑھ جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے مگر جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں یہ بات بکلی محال ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہو کر گری۔ ماسوا اس کے ایک اور پختہ دلیل اس بات پر یہ ہے کہ جیسا کہ روح کا گرنا اس طرح سے مستلزم محال ہے کہ اس سے روح کا دو ٹکڑے ہونا لازم آتا ہے ایسا ہی اس طرح سے بھی مستلزم محال ہے کہ وہ واقعات ثابت شدہ کے مخالف ہے کیونکہ ثابت شدہ واقعات یقینی اور قطعی طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ خود نطفہ مرد اور ۱۱۵